بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

لاہور سینٹر میں سی ایس ایس امتحان: طلبہ کو شرکت سے روکنے کیخلاف کیس، اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصلہ محفوظ کر لیا

اسلام آباد ہائی کورٹ نے لاہور سینٹر میں سی ایس ایس امتحانات میں طلبہ کو شرکت سے روکنے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
جسٹس محمد آصف نے کیس کی سماعت کی، جس میں درخواست گزار کے وکیل منیر احمد عدالت میں پیش ہوئے اور موقف اختیار کیا کہ لاہور سینٹر میں سیکڑوں طلبہ کو امتحان سے محروم کر دیا گیا۔ وکیل نے کہا کہ ریاست ماں جیسی ہوتی ہے، اور یہ مناسب نہیں کہ پریس ریلیز کے ذریعے طلبہ کے خلاف کارروائی کی جائے۔
سماعت کے دوران کمرہ عدالت میں دلچسپ مکالمہ بھی ہوا۔ جسٹس محمد آصف نے وکیل ریاست علی آزاد سے کہا کہ ریاست ماں جیسی ہوتی ہے، جس پر وکیل علی آزاد نے جواب دیا کہ “میں تو کہتا ہوں ریاست باپ جیسی ہوتی ہے”، جس پر عدالت میں قہقہے گونج اٹھے۔
اسسٹنٹ اٹارنی جنرل بھی عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ طلبہ کو پہلے 50 منٹ قبل پہنچنے کی ہدایت دی گئی تھی، جو نہیں آئے، اس لیے یہ ان کی غلطی ہے۔ تاہم جسٹس محمد آصف نے کہا کہ یہ سارے بچے ہیں، ان کے ساتھ نرمی برتی جائے، اور ریاست کو انہیں سہولت فراہم کرنی چاہیے۔ عدالت نے مزید کہا کہ سرکار اور ریاست ماں جیسی ہوتی ہیں، اور بچوں کی تعلیم اور سہولت کو اولین ترجیح دینی چاہیے۔
وکیل منیر احمد نے عدالت کو بتایا کہ لاہور سینٹر میں 4 ہزار طلبہ کو شرکت کرنا تھی، لیکن مجموعی طور پر 17 ہزار طلبہ شامل ہوئے، یعنی باقی 13 ہزار طلبہ دیگر مراکز میں امتحان دے رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن کی ہدایات کے مطابق طلبہ کو امتحان سے 50 منٹ پہلے پہنچنے کا کہا گیا تھا، لیکن گیٹس اسی وقت بند کر دیے گئے، جس سے طلبہ کے اہم مواقع ضائع ہوئے۔
جسٹس محمد آصف نے استفسار کیا کہ کیا پیپر کے آغاز سے پہلے گیٹس بند کرنا جائز ہے۔ عدالت نے وکیل درخواست گزار کو ہدایت کی کہ پرانی ججمنٹس جمع کروائیں تاکہ انہیں دیکھ کر فیصلہ کیا جا سکے، اور بعد ازاں سماعت مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا۔