واشنگٹن: مہنگائی، سیاسی کشیدگی اور معیارِ زندگی سے متعلق خدشات کے باعث امریکا میں بڑی تعداد میں شہری بیرونِ ملک منتقل ہو رہے ہیں۔
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق یورپی ممالک کے نرم ویزا قوانین، ٹیکس مراعات اور بہتر معیارِ زندگی امریکی شہریوں کے لیے کشش پیدا کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں 2025 میں ریکارڈ تعداد میں لوگ یورپ، ایشیا اور لاطینی امریکا منتقل ہوئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تقریباً ڈیڑھ لاکھ امریکی شہری کے ملک چھوڑنے کے بعد امریکا کو کئی دہائیوں میں پہلی بار منفی خالص ہجرت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس سے قبل ایسی صورتحال عظیم کساد بازاری کے دور میں دیکھی گئی تھی۔
تاریخی طور پر امریکا تارکین وطن کی منزل سمجھا جاتا رہا ہے، لیکن حالیہ برسوں میں معاشی اور سماجی حالات میں تبدیلیوں نے اس رجحان کو متاثر کیا ہے۔
ادھر صدر ٹرمپ کی امیگریشن پالیسیوں پر سخت بیانات بھی زیرِ بحث ہیں۔ رپورٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ اگرچہ حکومت غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کارروائیوں کو بڑی وجہ قرار دیتی ہے، لیکن اصل تبدیلی یہ ہے کہ اب خود امریکی شہری بڑی تعداد میں بیرونِ ملک رہائش اختیار کر رہے ہیں۔
امریکی شہری بڑی تعداد میں ملک چھوڑنے لگے، رپورٹ میں حیران کن انکشاف








