نامور پاکستانی اداکارہ عروہ حسین اپنے نام کے ساتھ “حسین” کی بجائے انگلش میں “ہوکین” لکھتی ہیں، جس پر نجی ٹی وی کے رمضان ٹرانسمیشن پروگرام میں مفتی صاحب کا موقف وائرل ہوگیا۔
رمضان کے موقع پر مختلف چینلز پر خصوصی پروگرام نشر کیے جا رہے ہیں، جن میں اسلامی مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے مفتیانِ کرام شرکت کرتے ہیں اور سماجی و مذہبی معاملات پر اپنے فتاویٰ اور اسلامی نقطہ نظر پیش کرتے ہیں۔
نجی ٹی وی کی ایک رمضان ٹرانسمیشن میں مفتی صاحب نے اسلامی ناموں کو جان بوجھ کر تبدیل کرنے یا ماڈرن انداز دینے کے رجحان پر گفتگو کی۔ انہوں نے اداکارہ عروہ حسین کی جانب سے “حسین” کو “ہوکین” لکھنے کے معاملے پر بھی اپنی رائے دی۔
پروگرام کے میزبان نے سوال کیا کہ “مفتی صاحب، آج کل سیلیبریٹیز اپنے نام کی اسپیلنگ بدل رہی ہیں، جیسے عروہ نے حسین کو ہوکین کر دیا ہے، اس بارے میں آپ کا کیا موقف ہے؟”
مفتی صاحب نے جواب دیا کہ کسی کا نام جان بوجھ کر بگاڑ کر پکارنا جائز نہیں ہے، اور “ہوکین” عربی میں کوئی نام نہیں، اس لیے اس طرح نام کا استعمال درست نہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ حضرت علی ابنِ ابی طالبؓ نے فرمایا کہ کسی کا نام غلط ادا کرنا ظلم ہے، کیونکہ ہر شخص کا نام اس کے والدین نے رکھا ہوتا ہے اور اس کے احترام کا حق ہوتا ہے۔
مفتی صاحب نے مزید کہا کہ اسلامی نام رکھتے وقت احتیاط ضروری ہے۔ جیسے محمدؐ کے نام کو رکھنے میں بھی احترام اور تقاضے زیادہ ہیں، اسی طرح جان بوجھ کر نام بدلنا درست نہیں اور اس سے ناپسندیدہ اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
اداکارہ عروہ کے نام کی اسپیلنگ پر مفتی صاحب کا موقف وائرل








