وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ افغان سرحدی دراندازی پر پاکستانی مسلح افواج نے بہترین اور فیصلہ کن جواب دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشتگردوں کو اصلاح اور واپس آنے کا موقع دیا گیا ہے، لیکن اگر وہ اپنی کارروائیوں سے باز نہ آئیں تو انہیں ختم کردیا جائے گا۔
سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ حال ہی میں ایوان میں پاس ہونے والی قرارداد یہ پیغام دیتی ہے کہ پوری قوم مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معرکہ حق کے ہر لمحے پر عوام نے افواج پر اعتماد کا ثبوت دیا۔
رانا ثنا اللہ نے بتایا کہ دوحہ میں کئی ہفتوں مذاکرات ہوئے اور ڈیورنڈ لائن کی نگرانی کے لیے دوست ممالک پر مشتمل کمیشن بنانے کی تجویز بھی دی گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی مسائل کا حل ہمیشہ میز پر بیٹھ کر اور سیاسی جماعتوں کے مشترکہ اجلاس کے ذریعے ہونا چاہیے، اور اس سلسلے میں پاکستان کی طرف سے مکمل تیاری موجود ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم نے تین مرتبہ مذاکرات کی دعوت دی، لیکن کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے معاملے میں بھی علاج اور انسانی ہمدردی کے اصولوں کے مطابق بات کی جا سکتی ہے۔
راجہ ناصر عباس: قوم کو متحد کرنا ضروری
اپوزیشن لیڈر سینیٹر راجہ ناصر عباس نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ کے دو راستے ہیں: ایک عملی کارروائی اور دوسرا مذاکرات۔ انہوں نے زور دیا کہ ریجنل سیکورٹی فریم ورک کو مضبوط بنانے کے لیے متعلقہ ممالک کو بلا کر کانفرنس کرنی چاہیے اور داخلی سطح پر عوامی حمایت بھی حاصل ہونی چاہیے۔
راجہ ناصر عباس نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس انتہائی ضروری ہے، جہاں قومی اسمبلی اور سینٹ کے اراکین کو معاملات سے آگاہ کیا جائے اور بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرائی جائے تاکہ عوام کو مکمل طور پر معلومات فراہم کی جا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی جیل سے باہر نہیں آنا چاہتے اور انہوں نے دعا کی درخواست کی ہے کہ اگر وہ شہید ہو جائیں تو بہتر ہوگا، تاہم بہتر طبی علاج ان کا حق ہے۔
یہ بیانات اس عزم کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان اپنی سرحدوں اور عوام کی حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا، لیکن ساتھ ہی انسانی ہمدردی اور قانونی طریقہ کار کو بھی نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔
دہشتگردوں کو آخری موقع دیا گیا، باز نہ آئے تو کارروائی کی جائے گی، رانا ثنا اللہ








