بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

جنیوا مذاکرات کے دوران فوجی تیاری بھی تیز، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز اسرائیل پہنچ گیا

مشرقی وسطیٰ میں کشیدگی کے بڑھنے کے دوران امریکی بحریہ کا طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ (USS Gerald R. Ford) اسرائیل پہنچ گیا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان 26 فروری کو جنیوا، سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات کا نیا دور بھی منعقد ہوا، لیکن اس کے ساتھ واشنگٹن نے تہران پر فوجی دباؤ میں بھی اضافہ کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ بحری جہاز پیر کے روز یونان کے جزیرے کریٹ میں موجود امریکی اڈے سے روانہ ہوا تھا۔ ایتھنز میں امریکی سفارت خانے نے جہاز کی موجودگی پر کوئی تبصرہ نہیں کیا اور تمام سوالات واشنگٹن کے پینٹاگون کو بھیج دیے گئے۔
گزشتہ سال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر ممکنہ حملے کا حکم دے چکے ہیں اور بارہا خبردار کیا ہے کہ اگر ایران اپنے متنازع جوہری پروگرام پر نیا معاہدہ نہیں کرتا تو فوجی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
مغربی ممالک ایران کے جوہری پروگرام کے ایٹمی ہتھیار کی تیاری کی طرف بڑھنے کے خدشات کا اظہار کر رہے ہیں، جبکہ تہران اس الزام کی سختی سے تردید کرتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں اس وقت امریکا کے ایک اور طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہام لنکن (USS Abraham Lincoln) سمیت درجنوں جنگی بحری جہاز موجود ہیں، جن میں نو ڈسٹرائرز اور دیگر جنگی بحری جہاز شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق خطے میں بیک وقت دو امریکی طیارہ بردار بحری جہازوں کی موجودگی غیر معمولی اور ہائی الرٹ کی نشانی ہے۔