فرانس کے تجربہ کار گول کیپر Anthony Lopes سوشل میڈیا پر اس وقت موضوعِ گفتگو بن گئے جب انہوں نے بظاہر انجری کا تاثر دے کر اپنے مسلمان ساتھیوں کو افطار کا موقع فراہم کیا۔
یہ واقعہ فرانسیسی لیگ کے ایک میچ میں پیش آیا جہاں FC Nantes کا مقابلہ Le Havre AC سے تھا۔ کھیل کے 74ویں منٹ میں اچانک لوپس زمین پر گر گئے اور اپنی بائیں ٹانگ (ہیم اسٹرنگ) پکڑ لی۔ میڈیکل اسٹاف فوری طور پر میدان میں پہنچا اور ان کا معائنہ شروع کیا۔
اسی دوران نانٹیس کے چند مسلمان کھلاڑی سائیڈ لائن پر گئے اور انہوں نے کھجور اور پانی سے روزہ افطار کیا۔ بعد ازاں میچ دوبارہ شروع ہوا اور نانٹیس نے یہ مقابلہ دو صفر سے جیت لیا۔
سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لوپس کچھ دیر تک میدان میں لیٹے رہے، جس سے کھیل میں اتنا وقفہ مل گیا کہ روزہ دار کھلاڑی سکون سے افطار کر سکیں۔ بعد میں وہ آہستگی سے کھڑے ہوئے اور کھیل جاری رہا۔
واضح رہے کہ فرانس میں فٹبال حکام مذہبی بنیادوں پر باضابطہ وقفے کی اجازت نہیں دیتے، اس لیے اس نوعیت کے لمحات کم ہی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ قوانین کے مطابق اگر کوئی فیلڈ پلیئر طبی امداد لیتا ہے تو اسے عموماً میدان سے باہر جانا پڑتا ہے، تاہم گول کیپر اس پابندی سے مستثنیٰ ہوتے ہیں، جس کے باعث ان کے علاج کے دوران کھیل روکنا ممکن ہوتا ہے۔
لوپس کے اس اقدام کو سوشل میڈیا صارفین نے کھیل کے جذبے اور باہمی احترام کی خوبصورت مثال قرار دیا ہے۔
فرانسیسی گول کیپر کا خوبصورت اقدام، مسلمان کھلاڑیوں کو افطار کا موقع مل گیا








