اسلام آباد:(نیوزڈیسک)ملک بھر کی سرکاری و نجی جامعات میں تقریباً 40 فیصد تدریسی اور انتظامی آسامیاں خالی ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جس کے بعد ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے سخت نوٹس لیتے ہوئے جامعات کے وائس چانسلرز اور ریکٹرز کو فوری سلیکشن بورڈز اور بھرتیوں کا عمل مکمل کرنے کے لیے 15 اگست تک مہلت دے دی ہے اور غیر ضروری تاخیر پر متعلقہ اداروں کے خلاف انتظامی کارروائی کا عندیہ بھی دیا ہے۔
چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر نیاز احمد اختر کی جانب سے جاری مراسلے میں کہا گیا ہے کہ پرو وائس چانسلر، رجسٹرار، ڈین، کنٹرولر امتحانات اور اساتذہ کی بڑی تعداد میں اسامیاں طویل عرصے سے خالی پڑی ہیں، جس کے باعث تعلیمی و انتظامی امور متاثر ہو رہے ہیں۔
ہائرایجوکیشن کمیشن نے وائس چانسلرز کو فوری طور پر خالی عہدوں پر تقرریوں کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
مراسلے کے مطابق ایڈہاک اور عارضی تقرریوں کے باعث جامعات میں فیصلہ سازی، تعلیمی منصوبہ بندی، تحقیق اور طلبہ کی معاونت کا نظام کمزور پڑ رہا ہے۔
ایچ ای سی نے واضح کیا ہے کہ میرٹ پر شفاف بھرتیوں کا عمل ہر صورت 15 اگست 2026 تک مکمل کیا جائے۔
چیئرمین ایچ ای سی نے تمام پبلک اور پرائیویٹ یونیورسٹیوں کے ریکٹرز، وائس چانسلرز اور پرو وائس چانسلرز کو خطوط ارسال کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ سلیکشن بورڈز باقاعدگی سے منعقد کیے جائیں اور بھرتیوں میں کسی قسم کی سستی یا تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔
کمیشن نے جامعات کو اعلیٰ انتظامی معیار، میرٹ پر مبنی گورننس اور ادارہ جاتی جواب دہی یقینی بنانے کا بھی حکم دیا ہے۔
مراسلے میں خبردار کیا گیا ہے کہ تقرریوں میں غیر ضروری تاخیر پر متعلقہ اداروں کے خلاف انتظامی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔
دوسری جانب بعض جامعات میں اہم عہدوں پر تعیناتیاں طویل عرصے سے تعطل کا شکار ہیں، شہید ذوالفقار علی بھٹو شہید یونیورسٹی میں رجسٹرار کی تعیناتی عرصہ دراز سے زیر التوا ہے جبکہ پمز میں ڈین کے عہدے پر مسلسل تین بار مدت ملازمت میں توسیع کی جا چکی ہے، جس پر متعلقہ حلقوں میں سوالات اٹھ رہے ہیں۔
ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ خالی آسامیوں اور عارضی انتظامات کے باعث اعلیٰ تعلیم کا نظام دباؤ کا شکار ہے اور فوری اصلاحات وقت کی ضرورت ہیں۔









