بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ایران اسرائیل کشیدگی پر برطانوی وزیراعظم کا بیان، جنگی طیارے بھیجنے کا اعلان

ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد برطانوی وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر نے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ کو ایران کے جوہری پروگرام پر طویل عرصے سے خدشات رہے ہیں اور وہ اسرائیل کے دفاع کے حق کو تسلیم کرتا ہے، تاہم موجودہ صورتحال کو فوری طور پر قابو میں لانا ناگزیر ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسٹارمر نے خبردار کیا کہ خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خطرہ موجود ہے، جس کے اثرات نہ صرف علاقائی امن بلکہ عالمی معیشت اور تیل کی قیمتوں پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلیفون پر گفتگو ہوئی جس میں امن، تحمل اور سفارتی راستہ اپنانے پر زور دیا گیا۔
برطانوی وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ وزیرِ خارجہ ڈیوڈ لیمی نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے رابطہ کیا اور کشیدگی کم کرنے کی اپیل کی۔ ان کے مطابق برطانیہ اپنے اتحادیوں سے مسلسل رابطے میں ہے اور ہر سطح پر یہی پیغام دیا جا رہا ہے کہ تنازع کو مزید پھیلنے سے روکا جائے۔
دوسری جانب برطانوی حکومت نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے پیش نظر اضافی جنگی طیارے اور فوجی اثاثے بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعظم کے ترجمان کے مطابق خطے میں موجود برطانوی اڈوں سے ری فیولنگ طیارے روانہ کیے جا چکے ہیں جبکہ مزید لڑاکا طیارے بھی جلد تعینات کیے جائیں گے تاکہ ہنگامی حالات سے نمٹا جا سکے۔
اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر جاری بیان میں کہا کہ ایران پر رات کے حملے سے امریکا کا کوئی تعلق نہیں۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران کی جانب سے امریکا پر کسی بھی شکل میں حملہ کیا گیا تو امریکی مسلح افواج پوری طاقت سے جواب دیں گی۔
مجموعی طور پر صورتحال انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں ایک جانب فوجی تیاریوں میں اضافہ ہو رہا ہے تو دوسری جانب سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں، اور عالمی برادری کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا یہ کشیدگی کم ہو پاتی ہے یا مزید شدت اختیار کرتی ہے۔