ممبئی (نیوز ڈیسک)زینت امان نے فلمی دنیا میں حسن کے معیار اور پلاسٹک سرجری کے بڑھتے ہوئے رجحان پر کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی اداکارہ خود کو خوبصورت دکھانے کے لیے پلاسٹک سرجری یا دیگر طریقۂ علاج اختیار کرتی ہے تو اس میں کوئی برائی نہیں۔
ایک تقریب کے دوران گفتگو کرتے ہوئے زینت امان کا کہنا تھا کہ فلم ایک بصری ذریعہ ہے اور ناظرین پردۂ اسکرین پر خوبصورتی اور دلکشی دیکھنا چاہتے ہیں۔ ایسے میں اگر کوئی اداکارہ اپنی ظاہری شکل بہتر بنانے کے لیے طبی عمل سے گزرتی ہے تو اسے غلط نہیں کہا جا سکتا۔ ان کے مطابق یہ ہر فرد کا ذاتی فیصلہ ہے کہ وہ اپنی صورت بہتر بنانے کے لیے کیا راستہ اختیار کرتا ہے۔
اداکارہ نے موجودہ دور میں اداکاراؤں پر بڑھتے ہوئے دباؤ پر بھی بات کی اور کہا کہ یہ دباؤ زیادہ تر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کی وجہ سے ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آج کی اداکاراؤں کو روزانہ تبصروں، آرا اور تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جو ہمارے دور میں اس شدت سے موجود نہیں تھا۔ ان کے مطابق ڈیجیٹل دور نے حسن کے معیار کو مزید سخت بنا دیا ہے، جس کے باعث نوجوان اداکاراؤں پر اضافی ذہنی دباؤ پڑتا ہے۔
زینت امان نے فلمی سفر کا آغاز انیس سو اکہتر میں فلم ’’ہلچل‘‘ سے کیا۔ بعد ازاں انہوں نے ’’ہری رام ہری کرشنا‘‘، ’’یادوں کی بارات‘‘، ’’ڈان‘‘ اور ’’ستیم شیوم سندرم‘‘ جیسی کامیاب فلموں میں اداکاری کر کے شہرت حاصل کی۔ انہیں ستر کی دہائی کی سب سے دلکش اور جدید سوچ رکھنے والی اداکاراؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ خوبصورتی کا تصور وقت کے ساتھ بدلتا رہتا ہے، لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ انسان خود کو جس حال میں بہتر محسوس کرے، اسی کو اختیار کرے۔ ان کے نزدیک حسن کے نام پر کسی کو موردِ الزام ٹھہرانا درست نہیں بلکہ ہر فرد کے فیصلے کا احترام ہونا چاہیے۔









