بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

پاکستان ذمہ دار ایٹمی قوت، اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں، صدرزرداری

اسلام آباد (نیوزڈیسک)صدرآصف علی زداری نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ منفرد اعزازہے کہ بطور دو بار منتخب صدر مملکت پارلیمنٹ سے یہ میرا 9واں خطاب ہے،پارلیمنٹ سے ایسا ہر خطاب جمہوری نظام کے تسلسل اورذمہ داری کی یاد دہانی ہے ،قوموں کا امتحان صرف بحران میں نہیں ،اہم موڑ پر بھی ہوتا ہے،جمہوریہ کی طاقت آئین، عوامی ثابت قدمی، پارلیمنٹ اور حکومت کی ذمہ داری، مسلح افواج کے حوصلے میں مضمر ہے،نئے پارلیمانی سال کے آغاز پر ہمیں اسی عزم کو آگے بڑھانا ہے،

صدرمملکت نے کہا کہ ملکی خودمختاری کا تحفظ، آئین کی حکمرانی اور معاشی ترقی کو فروغ دیناہے،اپنےشہریوں کی خوشحالی اور امن کیلئے ترقی اور استحکام کاعمل آگے بڑھانا ہے،آج ہم اُن بنیادوں پر کھڑے ہیں جو ہماری قومی جدوجہد کے معماروں نے رکھی تھیں،قائدِاعظم نے ایسی جمہوری ریاست کا تصور پیش کیا جو آئین اور قانون کی حکمرانی پر قائم ہو،شہید ذوالفقار علی بھٹو نے قوم کو متفقہ آئین دیا،محترمہ بے نظیر بھٹو شہیدنے قربانی اور مثالی قیادت سےجمہوری عمل کو مضبوط کیا۔

آصف زرداری کا کہناتھا کہ پارلیمنٹ کی بالادستی پرمیرا ایمان صرف الفاظ تک محدود نہیں ، عملی اقدامات سے ظاہر ہے، گزشتہ دورِ میں یکطرفہ طور پر صدارتی اختیارات پارلیمنٹ کو واپس کیے،تاریخی 18ویں ترمیم کے ذریعے صدر مملکت کا منصب وفاق کی وحدت کی علامت ہے،یہ منصب وفاقی اکائیوں کے درمیان پل اور آئینی قوانین کا نگہبان ہے،گزشتہ دس ماہ میں ہماری قوم نے پیچیدہ چیلنجز کاسامنا کیا،جب بھی قومی خودمختاری کو کسی بھی محاذ پر چیلنج کیا گیا، پاکستان نے تحمل اور مضبوط عزم کا مظاہرہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ دونوں سرحدوں پر بلااشتعال حملوں پرہماری افواج نے غیر معمولی پیشہ ورانہ مہارت اور نظم و ضبط کا ثبوت دیا،ہماری بہادر افواج نے معرکۂ حق میں بھارتی حملے کو تاریخی تذویراتی فتح میں بدل دیا،26 فروری کی رات طالبان رجیم نے مغربی سرحد پر حملے کیے، ہماری سکیورٹی فورسز نے فیصلہ کن اقدام سےواضح کر دیا کہ کسی دراندازی کو برداشت نہیں کیا جائے گا، سیاسی قیادت متحد اورقوم ثابت قدم رہی۔

صدرمملکت نے پوری قوم کے طرف سےاپنی سرحدوں کے بہادر محافظوں سے اظہار تشکر کیا اور کہا کہ نڈر سپوتوں کی مستعدی، بہادری اور خدمت کی بدولت ہم آج محفوظ ہیں ،مختصر ہوں یا طویل، ہماری افواج اوراداروں کی قربانیوں کو محض اعداد میں نہیں سمیٹا جا سکتا، ہم میڈیا پر اپنی بہادر افواج اور اداروں کے کارنامے فخر سے دیکھتے ہیں، ہم ان کی تربیت، مشقت اور خدمت میں شامل خون، پسینہ اور آنسو نہیں دیکھ پاتے،ہر شہید ایسے خاندان کی نمائندگی کرتا ہے جس نےملکی استحکام کے لیے عظیم قربانی دی۔

انہوں نے کہا کہ شہداء کےاہلِ خانہ کیلئے وہی درد محسوس ہے جو محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت پر محسوس کیا تھا،بطور ریاست ہمیں ان خاندانوں کی عزت اور وقار کے ساتھ مسلسل کفالت کرنی ہے،2025 پاکستان کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا، 2025کی پہچان معرکۂ حق میں شاندار کامیابی ہے جس نے بیرونی جارحیت کو ناکام بنایا،اللہ کے فضل سے یہ صرف عسکری فتح نہیں بلکہ قومی عزم کا اظہار تھا،بھارتی جارحیت کا مقابلہ کرتے ہوئے عسکری اور سفارتی محاذوں پر کامیاب رہے، عالمی برادری نے ہماری اصولی اور فیصلہ کن کارروائی کو تسلیم کیا۔

صدرمملکت نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی منصفانہ جدوجہد کی سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھیں گے، بھارتی قبضے سے کشمیر کی آزادی تک جنوبی ایشیا محفوظ نہیں ہوسکتا ،تنگ نظربھارتی رہنما ایک اور جنگ کی تیاری کے دعویدار ہیں،علاقائی امن کے داعی کے طور پرایسے اقدامات کوہرگز مناسب نہیں سمجھتا،جنگ کی صورت میں جارح کو ایک اور ذلت آمیز شکست کے لیے تیار رہنا چاہیے،جنگ کے میدان سے مذاکرات کی میز کی طرف آئیں، یہی علاقائی سلامتی کا راستہ ہے ۔

ان کا کہناتھا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست ہے ،اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہیں ،بوقت ضرورت اپنا دفاع کرنا بخوبی جانتے ہیں،ہمارا طرز عمل پختگی، اعتماد اور مقصد کی وضاحت کا عکاس ہے، 2025 میں بھی ہم نے اہداف کے حصول کے بعد تحمل کا مظاہرہ کیا،ہمارے اس پیغام کو خطے اور اس سے باہر واضح طور پر سمجھا گیا،گزشتہ ہفتے بھارت نے افغانستان کے راستے پراکسی کارروائیوں میں اضافہ کیا ،طالبان رجیم نے دیکھا کہ ریڈلائن پارکرنے سے پاکستان کاردعمل کیسا ہوتا ہے، پاکستان نے افغانستان سے دہشت گردوں کی دراندازی روکنے کیلئےسفارت کاری کی ہر ممکن کوشش کی ۔

آصف زردار ی کا کہناتھا کہ ہمارے لیے جنگ ہمیشہ آخری آپشن ہے، کسی بھی ریاست کیلئے اپنی سرزمین پر حملے قبول نہیں ،اقوام متحدہ کے چارٹر کا آرٹیکل 51 ہمیں اپنی خودمختاری کا دفاع کرنے کا حق دیتا ہے،ہم نے بھارت اور افغانستان دونوں کو اپنی صلاحیتوں کا ایک حصہ دکھایا ہے،گزشتہ 3سال میں سکیورٹی اداروں نے بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردی کے خلاف انٹیلی جنس بنیاد پر کارروائیاں کی ہیں،دہشت گردی کے خاتمے کی اس مہم میں پاک فوج تنہا نہیں۔

صدر آصف زرداری نے کہا کہ سرحد پار دہشت گردی کے خلاف پوری قوم اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ ہے ،کالعدم ٹی ٹی پی ، بی ایل اے اور وابستہ تنظیموں کے حملے بالکل برداشت نہیں،دوٹوک انداز میں واضح کرتے ہیں کہ پاکستان کی سرزمین مقدس ہے ،کسی کواجازت نہیں دیں گے کہ پاکستان کوغیر مستحکم کرنے کیلئےہمسایہ ملک کی سرزمین استعمال کرے ،