راولپنڈی (نیوزڈیسک )سینئر پاکستانی سکیورٹی عہدیدار کی میڈیا سے گفتگو۔ آپریشن’’ غضبُ للحق‘‘ افغان طالبان کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں یا اپنی سرزمین سے سرگرم دہشت گرد گروہوں کے ساتھ۔افغانستان میں جاری آپریشن اُس وقت تک ختم نہیں ہوں گے جب تک افغان طالبان حکومت فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی سہولت کاری ترک کرنے کے حوالے سے پاکستان کو قابلِ تصدیق یقین دہانی فراہم نہیں کرتی۔ ہم کسی جلد بازی میں نہیں ہیں۔پاکستان کے آپریشنز کا دورانیہ افغان طالبان حکومت کے زمینی اقدامات پر منحصر ہوگا۔افغان طالبان حکومت بطور پراکسی ماسٹر خطے کے امن کو سبوتاژ کرنے والے متعدد دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی کر رہی ہے۔افغان طالبان حکومت مسخ شدہ مذہبی نظریے کی آڑ میں جنگی معیشت کو فروغ دے رہی ہے۔ ان کی قیادت کا اصل مقصد مفادات اور مالی فوائد ہیں۔ وزارتِ اطلاعات و نشریات آپریشن غضبُ للحق کی پیش رفت سے متعلق مسلسل تفصیلات جاری کر رہی ہے۔ ہم اس حوالے سے مکمل شفافیت اختیار کیے ہوئے ہیں۔ پاکستان دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں اور اُن کے سہولت کاروں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ یہ وہ جائز اہداف ہیں جو پاکستانی شہریوں، مساجد اور معصوم بچوں پر مسلط کی گئی دہشت گردی کی جنگ کے تناظر میں self ڈیفنس کے زمرے میں آتے ہیں۔ افغان طالبان حکومت اور اُن کے بھارتی سرپرست اپنے سرکاری اکاؤنٹس کے ذریعے من گھڑت پروپیگنڈا اور جھوٹی معلومات پھیلا رہے ہیں۔ تمام دعوؤں کی تصدیق کی جانی چاہیے کیونکہ افغان طالبان کے سرکاری ذرائع قابلِ اعتبار نہیں۔افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کے اقدامات کو مظلوم افغان برادریوں اور اقلیتوں کی جانب سے مثبت ردِعمل ملا ہے۔ ہمارا افغان عوام سے کوئی اختلاف نہیں؛ ہماری کارروائیاں صرف اُن خوارجی عناصر اور اُن کے حامیوں کے خلاف ہیں جو پاکستان کے اندر دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث یا معاون ہیں۔ افغانستان میں حکومت کی تبدیلی سے پاکستان کا کوئی تعلق نہیں؛ یہ افغان عوام کا داخلی اختیار ہے۔ افغان عوام اس امر پر اطمینان رکھتے ہیں کہ ظالمانہ عناصر کے خلاف مؤثر اقدام کیا گیا ہے۔ اب تک 180 سے زائد چوکیوں کو تباہ کیا جا چکا ہے اور 30 سے زائد اہم مقامات کا کنٹرول حاصل کیا گیا ہے، وہی مقامات جن کا دہشت گرد لانچ پیڈ کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔ پاکستان آپریشن غضبُ للحق کے خاتمے کے معاملے میں کسی جلد بازی کا مظاہرہ نہیں کرے گا۔ دہشت گردوں کے سہولت کاروں اور معاونین کو اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔ پاکستان افغانستان میں اندھا دھند اہداف کو نشانہ نہیں بنا رہا بلکہ صرف اُن مخصوص انفراسٹرکچر اور تنصیبات کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے جو دہشت گرد گروہوں کی معاونت میں استعمال ہو رہی ہیں۔ اندرونی سکیورٹی میں پاک فوج کی شمولیت گورننس کے خلا کے باعث ہے۔ نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد نہ ہونا اور متعلقہ اداروں کے سیاست زدہ ہونے نے صورتحال کو پیچیدہ بنایا، جس کے باعث فوج کو کردار ادا کرنا پڑا۔ ہم تمام سیاسی جماعتوں اور حکومتوں سے بہتر حکمرانی اور نیشنل ایکشن پلان پر مؤثر عملدرآمد کی اپیل کرتے ہیں۔ پاک فوج کا سیاست یا دیگر امور سے کوئی مفاد وابستہ نہیں۔ ایران کی صورتحال‘‘ ایران کے حوالے سے پاکستان متوازن پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ ایران نے پاکستان کے ردِعمل کو سراہا ہے، جس کی تائید چین اور روس نے بھی کی۔ پاکستان نے ایران کی جانب سے برادر عرب ممالک کو نشانہ بنانے پر اپنے تحفظات واضح طور پر بیان کیے ہیں۔ پاکستان ایک مستحکم اور پُرامن ایران کا خواہاں ہے۔یہ تاثر کہ پاکستان اگلا ہدف ہو سکتا ہے، بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہے۔ پاکستان اور ایران کو عسکری، خارجہ پالیسی اور داخلی حالات کے اعتبار سے یکساں قرار نہیں دیا جا سکتا۔پاکستان مضبوط خارجہ پالیسی پر کاربند ہے اور متعدد عالمی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کو اہمیت دیتا ہے۔ ہمارا مؤقف عوامِ پاکستان کے استحکام اور خوشحالی کے لیے تعمیری روابط پر مبنی ہے۔ پاکستان کے عالمی تعلقات باہمی احترام اور اعتماد کی بنیاد پر قائم ہیں۔پاکستان اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، جس کا مظاہرہ حالیہ معرکۂ حق اور دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ میں کیا جا چکا ہے۔پاکستان کی مسلح افواج اپنی بہادر اور ثابت قدم قوم کی حمایت سے دشمن کے ہر مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گی۔ اگر کسی کو اس حوالے سے کوئی شبہ ہے تو وہ زمینی حقائق دیکھ سکتا ہے۔ انتشار پھیلانے والے عناصر کی جانب سے پیدا کی جانے والی غلط فہمیوں اور پروپیگنڈے کی پاکستان سخت مذمت کرتا ہے۔ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اپنی دہائیوں پر محیط برادرانہ اور اسٹریٹجک تعلقات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس (ISF) سے متعلق تفصیلات ابھی طے ہونا باقی ہیں۔ پاکستان کی شرکت کا فیصلہ حکومتِ پاکستان مکمل جانچ پڑتال کے بعد کرے گی۔ ملک گیر احتجاج پاکستان نے ایران میں پیش آنے والے افسوسناک واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پُرامن احتجاج ہر شہری کا حق ہے، تاہم احتجاج کی آڑ میں تشدد کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ ملک میں افراتفری پھیلانے کی کسی بھی کوشش سے قانون کے مطابق نمٹا جائے گا، اور چند شرپسند عناصر کو پُرامن مظاہرین کی ساکھ خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
افغان عوام سے کوئی اختلاف نہیں، ٹارگٹ خوارج ہیں، سکیورٹی اہلکار
Warning: Trying to access array offset on value of type bool in /home/cn0hgdhfr55b/public_html/dailymumtaz.com/wp-content/themes/dmumtaz/template-parts/content/content-single.php on line 20







