بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

خلیجی ممالک میں خطرے کے سائرن، ایران سے داغے گئے میزائل اور ڈرون روک لیے گئے

خلیجی خطے میں کشیدگی کے دوران سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات اور بحرین میں خطرے کے سائرن بج اٹھے جبکہ فضائی دفاعی نظام نے ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کا دعویٰ کیا ہے۔
قطر کی وزارت دفاع کے مطابق ملک کو جمعہ کے روز ڈرون حملوں کی لہر کا سامنا کرنا پڑا۔ ایران سے داغے گئے 10 ڈرونز میں سے 9 کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا جبکہ ایک ڈرون دور دراز علاقے میں گر گیا۔ وزارت دفاع نے یہ بھی کہا کہ مسلح افواج نے ایک میزائل حملہ بھی ناکام بنایا، تاہم میزائلوں کی درست تعداد یا ہدف کے بارے میں تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔
سعودی عرب کی وزارت دفاع کے مطابق الخرج میں واقع پرنس سلطان ایئر بیس کی جانب داغے گئے دو بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں ہی روک کر تباہ کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ شیبہ آئل فیلڈ کی طرف آنے والے چھ ڈرون بھی مار گرائے گئے، جبکہ ایک ڈرون کو ریاض کے مشرقی علاقے میں تباہ کیا گیا۔
متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے بھی بتایا کہ فضائی دفاعی نظام ایران سے آنے والے میزائل اور ڈرون حملوں کا مقابلہ کر رہا ہے۔ حکام کے مطابق ملک کے مختلف حصوں میں سنائی دینے والی دھماکوں کی آوازیں دراصل میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کے نتیجے میں پیدا ہوئیں۔
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق پاسداران انقلاب کی بحریہ نے متحدہ عرب امارات میں الظفرہ ایئربیس کو ڈرون حملے میں نشانہ بنایا، تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی اور اماراتی حکام کی جانب سے بھی اس بارے میں کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
کشیدہ صورتحال کے باعث فضائی سفر بھی متاثر ہوا۔ فلائٹ ٹریکر سروس کے مطابق دبئی آنے والی متعدد پروازوں کو کچھ دیر تک ہولڈنگ پیٹرن میں رکھا گیا جبکہ بعض پروازیں عارضی طور پر معطل بھی کی گئیں۔
بحرین کی وزارت داخلہ نے شہریوں کو احتیاط برتنے اور قریبی محفوظ مقامات پر جانے کی ہدایت کی ہے۔ گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران بحرین میں دو مرتبہ سائرن بجائے گئے۔
علاقائی کشیدگی کا اثر خلیج سے باہر بھی دیکھا گیا جہاں اردن کے شہر عقبہ کے اوپر ایک میزائل کو فضا میں ہی روک لیا گیا۔ مبصرین کے مطابق اگرچہ حملوں کی شدت میں کچھ کمی آئی ہے، تاہم چند واقعات بھی فضائی سفر اور عالمی تیل منڈیوں پر نمایاں اثر ڈال سکتے ہیں۔