امریکا کی مختلف انٹیلی جنس ایجنسیوں کی ایک مشترکہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران پر بڑے پیمانے پر فوجی حملہ بھی وہاں حکومت کی تبدیلی کا باعث نہیں بن سکے گا۔
امریکی نیشنل انٹیلی جنس کے تحت کام کرنے والی 18 انٹیلی جنس ایجنسیوں کی اس تازہ رپورٹ کے مطابق ایران کے اندر ایسی مضبوط اپوزیشن موجود نہیں جو موجودہ حکومت کا کنٹرول سنبھال سکے۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق خفیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران کی اپوزیشن بکھری ہوئی اور منقسم ہے، جس کے باعث فوری طور پر کسی متبادل قیادت کے ابھرنے کا امکان کم ہے۔
رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی قیادت کو ہٹا کر اپنی مرضی کی حکومت لانے کے منصوبے پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر ایرانی حکومت بیرونی دباؤ کے تحت فیصلے کرے تو یہ اس نظریاتی بنیاد کے خلاف ہوگا جس پر موجودہ ایرانی نظام قائم ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران کی مذہبی اسٹیبلشمنٹ کا بالائی طبقہ نظریاتی سوچ رکھتا ہے اور امریکی اثر و رسوخ کی مزاحمت کو اپنی بنیادی پالیسی سمجھتا ہے۔ بروکنگز انسٹی ٹیوٹ کے ایک ماہر کے مطابق فی الحال ایران کے اندر کوئی ایسی طاقت موجود نہیں جو موجودہ حکومت کا مؤثر متبادل بن سکے۔
امریکی انٹیلی جنس رپورٹ: ایران پر بڑا حملہ بھی رجیم چینج نہیں لا سکے گا








