کراچی(نیوز ڈیسک)ایف آئی اے کے اینٹی کرپشن سرکل نے کراچی پورٹ ٹرسٹ کی جانب سے کراچی انٹرنیشنل کنٹینرٹرمینل کو قواعد و ضوابط نظر انداز کرتے ہوئے برتھیں دینے کے معاملے پر سابق چیئرمین کے پی ٹی سمیت دیگر افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔
ایف آئی اے کے مطابق اس معاملے سے قومی خزانے کو 50 ارب روپے سے زائد کا نقصان پہنچایا گیا۔ مقدمے میں بتایا گیا ہے کہ 1996 میں بی او ٹی بنیاد پر دی گئی برتھیں 21 سالہ معاہدے کے تحت 2017 میں کے پی ٹی کو واپس ہونا تھیں تاہم معاہدہ ختم ہونے کے باوجود انہیں واپس نہیں لیا گیا۔
تحقیقات کے مطابق 2017 میں معاہدہ ختم ہونے کے بعد کے پی ٹی مینول کے مطابق اوپن بڈنگ بھی نہیں کرائی گئی۔ مزید یہ کہ 2005 میں مزید دو برتھیں دے کر کے آئی سی ٹی کے کنٹرول کو 2029 تک توسیع دے دی گئی۔
مقدمے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ فیز ون اور فیز ٹو میں توسیع نہ کرنے سے متعلق قانونی رائے کو بورڈ کے سامنے پیش نہیں کیا گیا۔
ایف آئی اے نے مقدمے میں سابق چیئرمین کے پی ٹی احمد حیات، سابق جی ایم پی اینڈ جمشید زیدی اور کے آئی سی ٹی کے سابق سی ای او خرم سجاد عباس کو نامزد کیا ہے۔
اس کے علاوہ کے آئی سی ٹی میں 50 فیصد شیئرز رکھنے والی غیر ملکی کمپنیوں کو بھی بطور لیگل پرسن مقدمے میں شامل کیا گیا ہے۔
ایف آئی اے کے مطابق بیرون ملک مقیم مرکزی ملزمان کی گرفتاری کے لیے انٹرپول کے ذریعے ریڈ نوٹس جاری کرانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ کیس کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔









