اسلام آباد(نیوزڈیسک)چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ وفاقی وزرا کہتے رہے کہ پیٹرول کا مہینے کا اسٹاک موجود ہے، اگر اسٹاک تھا تو پاکستان میں قیمت 20 فیصد کیوں بڑھائی گئی؟
اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ حکومت نے پیٹرول کے معاملے کو صحیح طریقے سے ہینڈل نہیں کیا، آئل ریگولیشن اتھارٹی کو بہتر کام کرنا چاہیے تھا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پیٹرول باقی ممالک سے زیادہ مہنگا فروخت کیا جارہا ہے۔ کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ 110 روپے بڑھا دیتے تو انہوں نے کیا کرلینا تھا؟
چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ان کو قوم کا درد نہیں، حکومت سے درخواست ہے کہ عوام کو ریلیف دے۔ اصلی ریلیف وہی حکومت دے سکتی ہے جسے عوام نے منتخب کیا ہو۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم نے ہر ممکن کوشش کی کہ ہمیں ایوان میں بولنے دیا جائے۔ پیٹرول کی قیمت میں 55 روپے اضافہ غیر آئینی و غیر قانونی ہے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ آئل مارکیٹنگ کمپنی کو اپنا اسٹاک رکھنا ہوتا ہے، عوام کا پیسہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے پاس نہیں جانا چاہیے تھا۔
اس موقع پر شاہد خٹک کا کہنا تھا کہ یہ پیٹرول بم ہے جو اس حکومت نے پاکستانی عوام پر گرایا ہے۔ اگر عالمی سطح پر کوئی اضافہ ہوتا تو کوئی بات تھی۔









