لندن:(ویب ڈیسک) کریمنل جسٹس سسٹم کا بحران، انصاف کے منتظر متاثرین اپنے مقدمات واپس لینے پر مجبور۔لندن کی نئی وکٹمز کمشنر اینڈریا سائمن نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ کریمنل جسٹس سسٹم کے بحران کا شکار ہونے کی وجہ سے انصاف کے منتظر متاثرین شدید ذہنی صدمے اور غیر یقینی صورتحال کے باعث اپنے مقدمات واپس لینے پر مجبور ہو رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ لندن کی کراؤن کورٹس میں اس وقت تقریباً 18 ہزار 500 مقدمات سماعت کے انتظار میں ہیں، جبکہ بعض مقدمات کی سماعت 2030 تک متوقع نہیں۔اینڈریا سائمن نے زیرِ التوا مقدمات کو نمٹانے کے لیے حکومتی اقدامات کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ بعض تجاویز کا باریک بینی سے جائزہ لینا ضروری ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ اقلیتی پس منظر رکھنے والے افراد کے ساتھ کسی قسم کا امتیاز نہ ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ ان تجاویز میں مجسٹریٹس کو زیادہ سزائیں دینے کے اختیارات دینا اور جیوری ٹرائلز کی تعداد کم کر کے بعض مقدمات میں صرف ایک جج کے ذریعے کیس کی نگرانی شامل ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بہت سے متاثرین اب بھی پولیس پر اعتماد نہیں کرتے جبکہ میٹ پولیس کا کہنا ہے کہ 2022 سے اب تک پولیسنگ کی تاریخ کی سب سے بڑی احتسابی کارروائی کے دوران تقریباً 150 افسران کو فورس سے نکالا جا چکا ہے۔
اینڈریا سائمن نے آن لائن ہراسانی اور بغیر اجازت یا مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کی گئی خواتین کی تصاویر کی تشہیر سے نمٹنے کے لیے پولیس کو مزید تربیت فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔









