ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز میں بھارت جانے والے ایک تجارتی جہاز کو نشانہ بنائے جانے کا واقعہ سامنے آیا ہے، جسے بعض ماہرین ایران کے ممکنہ ردعمل کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق تھائی لینڈ کے مال بردار جہاز مے یوری ناری کو اہم سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز میں ایک پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا۔ اس جہاز پر بھارت کے شہر گجرات کے لیے سامان لے جایا جا رہا تھا۔
رپورٹس کے مطابق حملے کے بعد جہاز میں آگ لگ گئی اور اس کے انجن روم کو شدید نقصان پہنچا، تاہم عملے کے کئی ارکان کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔
ماہرین کے مطابق یہ واقعہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران و بھارت تعلقات میں موجود پیچیدگیوں کو ظاہر کرتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ایران بھارت کی اس پالیسی سے ناراض ہے جس میں وہ بیک وقت ایران کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے کا دعویٰ کرتا ہے جبکہ عملی طور پر اسرائیل کے قریب سمجھا جاتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران حالیہ بعض اقدامات کو اپنے خلاف بھارتی صف بندی کا حصہ سمجھ رہا ہے، اسی لیے بھارت جانے والے تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے کو ایک سخت پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔









