ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ میزائل اور ڈرون حملے میں امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ابراہم لنکن کو شدید نقصان پہنچا۔ تاہم امریکا کی جانب سے اس حوالے سے تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
ترکیہ کی نیوز ایجنسی انادولوکے مطابق ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور پاسدارانِ انقلاب نے جمعے کی صبح دعویٰ کیا ہے کہ امریکی بحریہ کے طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن کو میزائل اور ڈرون حملے میں شدید نقصان پہنچا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ حملہ خطے میں جاری فوجی کارروائیوں کے دوران کیا گیا اور اس میں امریکی بحریہ کے کیریئر کو نشانہ بنایا گیا۔
تاہم بیان میں نقصان کی نوعیت، جہاز کی موجودہ حالت یا ممکنہ ہلاکتوں کے بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
دوسری جانب امریکی فوج یا یونائٹیڈ اسٹیٹ نیوی کی طرف سے اس دعوے کے بارے میں ابھی تک کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔
امریکی بحری بیڑے ابراہم لنکن کو ایک ایٹمی توانائی سے چلنے والا نِمٹز کلاس طیارہ بردار بحری جہاز ہے جو طویل عرصے سے امریکی بحریہ کے بیڑے کا اہم حصہ رہا ہے۔ یہ جہاز ماضی میں مشرق وسطیٰ اور ہند۔بحرالکاہل کے علاقوں میں متعدد فوجی تعیناتیوں میں امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے۔
دوسری جانب جنگ کے 14 ویں روز ایران نے رات گئے اسرائیل پر 44 ویں لہر کے تحت مزید میزائل داغے۔ خبر رساں ایجنسی کے مطابق تل ابیب کے آسمان میں میزائلوں کو روکتے مناظر دیکھے گئے اور حملوں کے فوراً بعد شہر میں سائرن بج اٹھے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق گلیل میں ایک راکٹ گرنے کے بعد زخمیوں کی تعداد 80 ہو گئی ہے۔ چینل 12 نے پہلے رپورٹ دی تھی کہ یہ میزائل شہر حائفہ کے قریب کرایات تیون میں ایک عمارت سے ٹکرایا، جس سے عمارت کو نقصان پہنچا۔
امریکا اور اسرائیل نے بھی تہران سمیت کاشان، اصفہان، قم اور ارک کے علاقوں میں فضائی کارروائیاں کیں، جنگ کی مجموعی صورت حال نہایت پیچیدہ ہے۔ اب تک 1,400 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں اور کئی رہائشی علاقے بھی حملوں کی زد میں آئے ہیں۔









