بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای زخمی، چھپتے پھر رہے ہیں؛ پینٹاگون

 

تہران (نیوزڈیسک)حالیہ دنوں میں ایران کے میزائل حملوں میں تقریباً 90 فیصد کمی آ چکی ہے۔آج ایران پر سب سے شدید ترین حملہ ہوگا؛ ڈونلڈ ٹرمپ۔امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے نئے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای اس وقت زخمی اور منظرِ عام سے غائب ہو کر چھپتے پھر رہے ہیں۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ان خیالات کا اظہار امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے پینٹاگون میں صحافیوں سے گفتگو میں کیا۔

انھوں نے کہا کہ گزشتہ روز ایرانی سرکاری ٹی وی پر مجتبیٰ خامنہ ای کا ایک تحریری بیان پڑھ کر سنایا گیا تھا تاہم اس کے ساتھ کوئی ویڈیو یا آڈیو جاری نہیں کی گئی۔وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے صحافیوں کے سامنے یہ سوال اٹھایا کہ ایسا کیوں ہوا ؟ اور خود ہی جواب دیا کہ میرا خیال ہے آپ سب جانتے ہیں، ایسا کیوں ہوا۔پیٹ ہیگستھ کے بقول نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اس وقت خوف زدہ اور زخمی ہیں اور منظر عام پر آنے سے گریز کر رہے ہیں۔امریکی وزیر دفاع نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ حالیہ دنوں میں ایران کے میزائل حملوں میں تقریباً 90 فیصد کمی آ چکی ہے جبکہ ایران کی جانب سے کیے جانے والے یکطرفہ حملہ آور ڈرونز میں 95 فیصد تک کمی دیکھی گئی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران اس وقت آبنائے ہرمز میں انتہائی مایوسی کا مظاہرہ کر رہا ہے تاہم امریکا اس صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ امریکا ایران کی فوجی صلاحیتوں کو اس انداز میں تباہ کر رہا ہے جیسا دنیا نے پہلے کبھی نہیں دیکھا اور ایرانی فوج کو بڑی حد تک جنگ کے قابل نہیں چھوڑا گیا۔پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی فضائی افواج کا مشترکہ آپریشن انتہائی مؤثر ثابت ہو رہا ہے اور دونوں ممالک کی انٹیلیجنس صلاحیتیں مسلسل بہتر ہو رہی ہیں۔امریکی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ایران کا فضائی دفاعی نظام شدید متاثر ہو چکا ہے جبکہ اس کے میزائل لانچرز کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ آج ایران کی فضاؤں میں امریکا کی جانب سے کیے جانے والے حملوں کی تعداد اب تک کی بلند ترین سطح تک پہنچ سکتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی قیادت اس وقت چھپ رہی ہے جبکہ امریکا کا عزم مضبوط ہے اور اس کی فوجی صلاحیتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ان کے مطابق اس تنازع کے حوالے سے تمام اختیارات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس ہیں اور وہی اس جنگ کی رفتار، طریقہ کار اور وقت کا تعین کریں گے۔