پاکستانی آل راؤنڈر سلمان علی آغا نے میرپور میں کھیلے گئے بنگلا دیش کے خلاف دوسرے ون ڈے میں متنازع رن آؤٹ پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ میں اس موقع پر اسپورٹس مین اسپرٹ کا مظاہرہ کرتا۔
ڈھاکا کے شیر بنگلا کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ کے دوران بنگلا دیش کے کپتان مہدی حسن میراز نے آغا سلمان کو نان اسٹرائیکر اینڈ پر رن آؤٹ کر دیا تھا جس پر پاکستانی بیٹر نے میدان سے باہر جاتے ہوئے شدید غصے کا اظہار کیا تھا۔
پاکستانی اننگز کے 39 ویں اوور میں بنگلا دیش کے کپتان نے نسبتاً تیز گیند کروائی جسے محمد رضوان نے ہلکے سے کھیل کر واپس پچ کی جانب دھکیل دیا، گیند گھومتے ہوئے نان اسٹرائیکر اینڈ پر کھڑے سلمان علی آغا کی طرف آ گئی۔
سلمان علی آغا نے ابتدا میں گیند سے بچنے کی کوشش کی، تاہم گیند مہدی حسن میراز کے دائیں پاؤں سے ٹکرا کر رک گئی، جیسے ہی گیند رکی، سلمان علی آغا اسے اٹھا کر مہدی حسن میراز کو واپس دینے کے لیے جھکے، لیکن بنگلا دیشی کپتان نے فوراً گیند اٹھا کر وکٹ پر مار دی، جس سے کریز سے باہر کھڑے سلمان علی آغا رن آؤٹ ہو گئے۔
میچ کے بعد پریس کانفرنس میں سلمان علی آغا نے کہا کہ قانون کے مطابق میرا رن آؤٹ درست تھا لیکن میرے خیال میں اس موقع پر اسپورٹس مین اسپرٹ کو ترجیح دینی چاہیے تھی۔
انہوں نے کہا کہ اگر میں اس صورتِ حال میں ہوتا تو شاید مختلف فیصلہ کرتا، مجھے لگا تھا کہ گیند پیڈ اور بیٹ سے لگنے کے بعد ڈیڈ ہو چکی ہے، اسی لیے میں گیند ڈیڈ سمجھ کر واپس بولر کو دینے کی کوشش کر رہا تھا۔
دوسری جانب میچ کے بعد گفتگو کرتے ہوئے بنگلادیشی کپتان نے اپنے فیصلے کا دفاع کیا اور کہا کہ اگر میں وکٹ پر نشانہ لگانے میں ناکام رہتا تو سلمان علی آغا اوور تھرو کی صورت میں رن لینے کی کوشش کر سکتے تھے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز کھیلے گئے میچ میں بنگلا دیش نے ٹاس جیت کر پاکستان کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی جس پر پاکستان نے 47.3 اوورز میں 274 رنز بنائے، ہدف کے تعاقب میں بنگلا دیش کی بیٹنگ جاری تھی کہ بارش کے باعث میچ کو روکنا پڑا۔
بارش کے بعد میچ شروع ہوا تو بنگلادیش کو 32 اوورز میں 243 رنز کا ہدف ملا لیکن پوری ٹیم 23.3 اوورز میں 114 رنز بنا سکی اور پاکستان ڈک ورتھ لوئس میتھڈ کے تحت 128 رنز سے کامیاب ہو گیا۔
3 ایک روزہ میچوں کی سیریز ایک ایک سے برابر ہو گئی ہے اور دونوں ٹیموں کے درمیان فیصلہ کن میچ اتوار کو کھیلا جائے گا۔









