بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

عراق اور ایران سے سبق: امریکہ کی حکمتِ عملی میں ابہام

ابھی تک کوئی واضح اشارہ نہیں کہ امریکہ ایران کے لیے کیا مستقبل تصور کر رہا ہے یا وہ کون سی تبدیلی لانا چاہتا ہے۔ بظاہر اس بار کی حکمتِ عملی بے ربط نظر آتی ہے، لیکن بعض ماہرین کے مطابق یہ صدر ٹرمپ کو آزادی دیتی ہے کہ وہ وقت آنے پر مختلف اقدامات میں سے کسی ایک کو ‘فتح’ قرار دے سکیں۔
ٹرمپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ ایران کی میزائل اور بحری صلاحیت کو کمزور کرنا ہی کافی تھا، جبکہ رجیم چینج ایرانی عوام کا معاملہ ہے۔ انہوں نے مختلف مواقع پر اس خواہش کا اظہار بھی کیا ہے۔
یہ حکمتِ عملی ایران کی حکومت کو کمزور تو کرے گی، مگر مزید سخت گیر اور تلخ بھی بنائے گی، جیسا کہ 1991 کی خلیجی جنگ کے بعد عراق میں ہوا۔ اُس وقت صدام حسین کو کویت سے تو نکالا گیا، لیکن بغداد میں وہ اقتدار میں برقرار رہا۔ نتیجہ برسوں کی کشیدگی، بمباری، تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے خطرات، اور آخرکار 2003 کی ایک اور جنگ کی شکل میں سامنے آیا۔
عراق سے سیکھا گیا بڑا سبق یہ ہے کہ کسی ریاست کو جنگ میں توڑنا نسبتاً آسان ہے، لیکن اسے بعد میں دوبارہ مضبوط بنانا انتہائی مشکل کام ہوتا ہے۔
موجودہ جنگ امریکی اتحادیوں، خاص طور پر برطانیہ اور خلیجی ممالک کو اپنی حقیقی سلامتی کے بارے میں دوبارہ سوچنے پر مجبور کر رہی ہے، جبکہ امریکہ کے لیے بھی اندرونی سیاسی اثرات غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔ معاشی نقصان کے اثرات ایسے طریقے سے پھیل رہے ہیں، جن کی توقع نہیں کی گئی تھی۔
ایک ممکنہ سبق یہ ہے کہ فوجی مداخلت کے آغاز میں احتیاط اور عاجزی بہت کارآمد ثابت ہوتی ہے۔ جنگیں فطری طور پر غیر متوقع ہوتی ہیں اور ان کے نتائج کئی دہائیوں تک گونجتے رہ سکتے ہیں۔