بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ایرانی حکمتِ عملی نے خطے کی طاقت کا توازن بدل دیا: الجزیرہ کا تجزیہ

غیر ملکی نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق ایران بظاہر اپنی پالیسی تبدیل کرتے ہوئے براہِ راست فوجی محاذ کے بجائے عالمی اقتصادی دباؤ بڑھانے کی حکمتِ عملی اختیار کر رہا ہے، جس کے اثرات پورے خطے میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔
کیمبرج یونیورسٹی کی مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کی ماہر پروفیسر روکسین فرمان کے مطابق خلیجی ممالک پر حملوں کے ذریعے امریکا کو جنگ بندی پر مجبور کرنے کی ایرانی کوششیں فوری طور پر کامیاب دکھائی نہیں دیتیں، تاہم اس حکمتِ عملی نے خطے کے اسٹریٹجک ڈائنامکس ضرور بدل دیے ہیں۔
ان کے بقول ایران نے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ عالمی توانائی منڈی پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ خاص طور پر آبنائے ہُرمُز کی بندش کے خدشے سے تیل بردار جہازوں کی نقل و حرکت متاثر ہو سکتی ہے، جس سے عالمی تیل کی قیمتیں تیزی سے اوپر جا سکتی ہیں۔
روکسین فرمان نے نشاندہی کی کہ متحدہ عرب امارات کی فجیرہ بندرگاہ پہلے ہی نشانہ بن چکی ہے، جبکہ آئندہ سعودی عرب کی وہ پائپ لائنیں خطرے میں ہو سکتی ہیں جو بحیرۂ احمر تک تیل پہنچاتی ہیں۔ ان کے مطابق اب اصل ہدف صرف خلیج نہیں بلکہ عالمی معیشت پر دباؤ ڈالنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایسی کارروائیوں کا مقصد یہ بھی ہو سکتا ہے کہ توانائی کی قلت اور مہنگائی کا اثر براہِ راست امریکا تک پہنچے، جہاں عوام اسے اسٹاک مارکیٹ اور پٹرول پمپس پر محسوس کریں، اور یوں واشنگٹن پر جنگ ختم کرنے کا دباؤ بڑھے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت پر بھی اس کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔