اسلام آباد (نیوزڈیسک)وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت نے وفاقی دارالحکومت میں تمام آؤٹ آف اسکول بچوں کے اندراج کے لیے 3 سالہ رولنگ پلان کے تحت اگلے تین ماہ کے دوران 25,000 بچوں کو اسکولوں میں داخل کرنے کا ہدف مقرر کر دیا ہے۔ اس اقدام کو سہل بنانے کے لیے حکومت ان “ہاٹ اسپاٹس” کے قریب نئے کمیونٹی اسکولز قائم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جہاں اسکول سے باہر بچوں کی تعداد زیادہ ہے۔وفاقی سیکرٹری برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت، ندیم محبوب نے اس جامع داخلہ مہم کے آغاز پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام وفاقی وزیرِ تعلیم، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی جانب سے حال ہی میں اعلان کردہ “کوئی بچہ پیچھے نہ رہے” (No Child Left Behind) مہم کے تسلسل میں اٹھایا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی نظامتِ تعلیم (FDE)، نیشنل کمیشن فار ہیومن ڈیولپمنٹ (NCHD)، بیسک ایجوکیشن کمیونٹی اسکولز (BECS) اور نیشنل ایجوکیشن فاؤنڈیشن (NEF) کی فیلڈ ٹیموں کو وفاقی دارالحکومت بھر میں متحرک کر دیا گیا ہے۔وفاقی سیکرٹری تعلیم نے وضاحت کی کہ رسمی اور غیر رسمی تعلیم کے دونوں محکمے یونین کونسل کی سطح پر ایک کارپٹ کوریج پلان پر عمل درآمد کر رہے ہیں۔ اس حکمت عملی کے تحت، ٹیمیں اسکول نہ جانے والے بچوں کی نشاندہی کرنے اور ان کا فوری داخلہ یقینی بنانے کے لیے گھر گھر سروے کر رہی ہیں۔اس مہم کو تقویت دینے کے لیے، وزارت نے باہمی اشتراک کے کئی اقدامات متعارف کرائے ہیں۔ یونیورسٹی کے طلباء کو رضاکاروں کے طور پر شامل کیا گیا ہے تاکہ وہ اپنی کمیونٹیز میں بچوں کی نشاندہی اور ان کے داخلے میں مدد کر سکیں۔ نچلی سطح پر رسائی کو زیادہ سے زیادہ کرنے کے لیے بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیمیں اور مقامی سول سوسائٹی کی تنظیمیں وزارت کے ساتھ تعاون کر رہی ہیں۔ طلباء کے گھروں کے قریب سیکھنے کے مواقع فراہم کرنے اور ان کی مخصوص تعلیمی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے نئے کمیونٹی سکول قائم کیے جائیں گے۔وفاقی سیکرٹری تعلیم ندیم محبوب نے زور دیا کہ مقررہ وقت کی سختی سے پابندی اور موثر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے ہفتہ وار بنیادوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔ انہوں نے حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کسی بھی بچے کو اس کے تعلیم کے حق سے محروم نہیں رکھا جائے گا، اور کہا کہ تین ماہ میں 25,000 بچوں کا داخلہ اس عزم کا واضح ثبوت ہے۔
3 سالہ رولنگ پلان؛ 25 ہزار آؤٹ اسکول بچوں کا داخلہ ہدف








