بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

عطاء اللہ تارڑ نے کابل میں ہسپتال کو نشانہ بنانے کا الزام مسترد کر دیا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے افغان طالبان حکومت کے اس دعوے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے کہ پاکستان نے کابل میں منشیات کی بحالی کے ہسپتال کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ الزام سراسر بے بنیاد اور گمراہ کن ہے۔

عطاء اللہ تارڑ کے مطابق پاکستان دہشت گردی کے خلاف اپنی جاری جنگ میں صرف ان عسکری اور دہشت گرد اہداف کو نشانہ بنا رہا ہے جو پاکستان کے اندر حملوں کی منصوبہ بندی، سہولت کاری، پناہ گاہ، تربیت یا حوصلہ افزائی کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کارروائیوں کا مقصد صرف دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کرنا ہے۔

وزیر اطلاعات نے بتایا کہ 16 مارچ 2026 کی رات کابل اور ننگرہار میں کیے گئے حملے مکمل طور پر پیشہ ورانہ، دانستہ اور ہدفی نوعیت کے تھے۔ ان کارروائیوں میں کسی ہسپتال، منشیات بحالی مرکز یا کسی بھی شہری سہولت کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔ ان کے مطابق اہداف میں گولہ بارود کے ذخائر، تکنیکی آلات کے مراکز اور پاکستان مخالف سرگرمیوں سے جڑی تنصیبات شامل تھیں۔

انہوں نے کہا کہ حملوں کے بعد وزارت اطلاعات کی جانب سے ویڈیو فوٹیج فوری طور پر میڈیا کو فراہم کی گئی، جس سے اہداف کی نوعیت واضح ہو گئی۔ کابل میں آگ کے شعلے اور ثانوی دھماکے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ گولہ بارود کے ذخیرہ کرنے کی جگہوں کو درستگی سے نشانہ بنایا گیا۔

عطاء اللہ تارڑ نے افغان طالبان حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ پروپیگنڈہ ایک ایسی روایت کا تسلسل ہے جس میں جھوٹے بیانات، گمراہ کن دعوے، پوسٹس کو حذف کرنا اور پرانی تصاویر کو دوبارہ استعمال کرنا شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ حربے سچائی کو چھپانے کی کوشش ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اصل مسئلہ بدستور برقرار ہے اور وہ یہ کہ افغان طالبان کے زیر اثر علاقوں سے پاکستان، خطے اور دنیا کو دہشت گردی کے سنگین خطرات لاحق ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ دہشت گرد عناصر منشیات کے عادی افراد اور معصوم بچوں کو بھی اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

وزیر اطلاعات نے واضح کیا کہ پاکستان اپنے شہریوں کے دفاع اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہر ضروری اقدام جاری رکھے گا اور سرحد پار موجود دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم نہیں کرنے دی جائیں گی۔