ملتان سلطانز کے نئے اونر گوہر شاہ نے فرنچائز کو بہتر روپ میں ڈھالنے کی ٹھان لی ہے۔
گوہر شاہ کا کہنا ہے کہ فرنچائز سے ابھی تو نقصان ہوگا، چوتھے سال سے آمدنی بڑھ جائے گی۔
نمائندہ ایکسپریس کو لندن سے دیے گئے خصوصی انٹرویو میں گوہر شاہ نے کہا کہ جب نیلامی میں فرنچائز نہ مل سکی تو اس وقت مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ بعد میں ایسا ہو جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ میں سامان پیک کر کے پاکستان سے انگلینڈ واپس آگیا تھا، البتہ ذہن میں یہ بات ضرور آرہی تھی کہ کاش ٹیم مل جاتی یا بڈنگ میں تھوڑی اور ہمت کی ہوتی، پھر رمضان شروع ہوا اور دعائیں قبول ہوئیں جس سے راستے کھلے اور آج آپ کے سامنے میں بطور ٹیم اونر موجود ہوں۔
گوہر شاہ نے کہا کہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے اونر ندیم عمر پلیئرز آکشن کیلیے لاہور آئے ہوئے تھے، انہوں نے مجھے ملاقات کیلیے بلایا، اس وقت ذہن میں شیئرز خریدنے کی بات نہ تھی۔
دوران گفتگو میں نے انہیں اپنے آئیڈیاز بتائے کہ پاکستان میں کرکٹ کس طرح کھیلی جانی چاہیے، میری باتیں انہیں بہت اچھی لگیں، تب انھوں نے خود کہا کہ اگر چاہو تو ہم پارٹنر شپ بھی کر سکتے ہیں، ہمارے ساتھ کام کرو، پھر انہوں نے مجھے بطور مہمان آکشن میں ساتھ بیٹھنے کی دعوت دی، اسی لیے میں وہاں گیا تھا۔
گوہر شاہ نے کہا کہ پلیئرز آکشن والے دن مجھے پتا چلا کہ سیالکوٹ کے پاس باہر سے کوئی انویسٹر آیا ہے جس نے 75 فیصد شیئرز لے لیے ہیں، اسی دوران مجھے اندازہ ہوا کہ اگر یہ شیئرز فروخت کر رہے ہیں تو انہیں مالی مسائل ہیں لیکن ایسا لگ رہا تھا کہ ڈیل ہو چکی ہے اس لیے میں درمیان میں نہیں پڑا۔
پی سی بی کو نئے پارٹنر نے ایک بینک پے آرڈر جو جعلی تھا یا اصل وہ بھیجا جس سے انہیں بھی لگا کہ رقم موصول ہو جائے گی، مگر وہ کبھی کیش نہیں ہوا، تب مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ جو اصل اونر گروپ ہے اسے سپورٹ کی ضرورت پڑے گی، اس کے بعد معاملات آگے بڑھتے گئے اور ٹیم ہمارے پاس آ گئی۔
گوہر شاہ نے کہا کہ میرا ارادہ یہی تھا کہ جب بھی پی ایس ایل میں ٹیم خریدی تو وہ ملتان سلطانز ہی ہوگی، اسٹریٹیجک پارٹنر شپ کے ساتھ ٹیم شیئرز کی اچھی خاصی تعداد ہمیں ملی ہے، البتہ کتنے فیصد ہیں میں اس کی تصدیق نہیں کر سکتا، ٹیم کے معاملات اب ہمارے ہی ہاتھ میں ہیں۔
انہون نے کہا کہ ایشٹن ٹرنر گزشتہ 8 میں سے 5 برس بگ بیش چیمپئن ٹیم میں شامل رہ چکے ہیں، گزشتہ 5 برسوں میں تین بار وہ کپتان بھی رہے۔
گوہر شاہ نے مزید کہا کہ ٹرنر پہلے بھی ملتان سلطانز کیلیے کھیل چکے ہیں اور پاکستانی پچز کا انہیں تجربہ ہے، اتنے تجربہ کار کپتان کا ساتھ دیگر کھلاڑیوں خصوصاً نوجوانوں کیلیے بھی بڑا مفید ثابت ہوگا، انہیں پتا ہے کہ فرنچائز کیلیے ٹورنامنٹ کیسے جیتتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ 22مارچ سے ٹیم کا کیمپ لگ رہا ہے جس میں تمام کوچنگ اسٹاف اور پلیئرز شریک ہوں گے۔
ایک سوال پر گوہر شاہ نے کہا کہ فرنچائز سے ابھی تو ہمیں نقصان ہوگا جو ہم تین برس تک تو برداشت کر سکتے ہیں، اس کے بعد دوبارہ جائزہ لیں گے۔
گوہر شاہ نے کہا کہ مجھے امید ہے چوتھے سال سے آمدنی بڑھ جائے گی، چاہے وہ اسپانسر شپ یا پارٹنر شپ سے ہو، اگلی میڈیا رائٹس ڈیل سے بھی دیکھا جائے گا کہ صورتحال کتنی تبدیل ہوتی ہے، فی الحال تو نقصان ہے لیکن ایسا نہیں کہ آپ کو لگے کہ ہم 10 سال ٹیم نہیں چلا سکیں گے۔
ٹیم میں کافی تبدیلیاں کی ہیں، 7 نئے پلیئرز شامل ہوگئے
گوہر شاہ نے کہا کہ ہم نے ٹیم میں کافی تبدیلیاں کی ہیں، 7 نئے پلیئرز شامل ہوئے جن میں 2 دیگر فرنچائزز سے ٹریڈ کیے جبکہ 5 ڈائریکٹ سائن کیے ہیں، اب بھی ٹریڈ کے حوالے سے گفتگو جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹیم کی جو شکل میرے ذہن میں تھی ویسی ہی ہوگی، کپتان کا فیصلہ میں نے کوچ ٹم پین اور دیگر کوچنگ اسٹاف کی مشاورت سے کیا ہے۔
اگر کمر کی انجری کا شکار نہ ہوتا تو شاید اب بھی کھیل رہا ہوتا
گوہر شاہ نے کہا کہ میرا کرکٹ کا سفر بڑا طویل رہا، میں بچپن سے ہی کرکٹر بننا چاہتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ میں نے انڈر15، انڈر 19 کرکٹ بھی کھیلی، لاہور ڈسٹرکٹ کی نمائندگی کی، فرسٹ کلاس کرکٹ میں بھی حصہ لیا، نیشنل بینک کی نمائندگی کرتا رہا، پھر انگلینڈ میں بھی کرکٹ کھیلی، گوکہ سفر بڑا اچھا رہا البتہ کچھ خواب ادھورے رہ گئے لیکن جو بہتری تھی وہی ہوا۔
گوہر شاہ نے کہا کہ اب ماضی کو خوشی سے ہی دیکھتا ہوں، میں لیفٹ آرم فاسٹ بولر تھا، اگر کمر کی انجری کا شکار نہ ہوتا تو شاید اب بھی کھیل رہا ہوتا لیکن ہر چیز میں بہتری ہی ہوتی ہے، اب میرے لیے میدان میں اترنا بڑا مشکل ہے کیونکہ کمر اتنا بوجھ برداشت نہیں کر سکتی۔
مستقبل میں انگلینڈ میں بھی پی ایس ایل کے میچز ہوں گے
گوہر شاہ نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ مستقبل میں انگلینڈ میں بھی پی ایس ایل کے میچز ہوں گے، کمرشل طور پر اس کا بڑا فائدہ ہے، باہر کے اسپانسرز بھی شامل ہو سکیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اب بھی ملتان سلطانز کیلیے ہم انٹرنیشنل برانڈز کی جانب جا رہے ہیں، بڑی ڈیلز کرنا چاہتے ہیں، مارکیٹ میں اسپانسرز کی پسندیدہ فرنچائز ملتان سلطانز ہی ہے، اگر لیگ بھی باہر گئی تو ہم بہت سے انٹرنیشنل برانڈز کو ساتھ لا سکیں گے۔
علی ترین کو میچ دیکھنے بلایا ہے
گوہر شاہ نے کہا کہ علی ترین بہت اچھے انسان ہیں اور مجھے سپورٹ بھی کر رہے ہیں، ان کی کالز آتی رہتی ہیں، سوشل میڈیا و دیگر اکاؤنٹس کی منتقلی وغیرہ میں ان کی ٹیم نے ساتھ دیا، میسکوٹ ’سائیں‘ کا کاسٹیوم بھی بھجوایا، علی کے ساتھ میرا کوئی مسئلہ نہیں ہے، میں نے تو انہیں میچ دیکھنے کے لیے مدعو بھی کیا ہے۔









