بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

اسرائیل نے فلسطینی قیدیوں کو غیر انسانی حالات میں رکھا: رپورٹ

نیویارک (ویب ڈیسک)اقوامِ متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانچیسکا البانیز نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل غزہ جنگ کے آغاز کے بعد فلسطینی قیدیوں پر منظم اور وسیع پیمانے پر تشدد کر رہا ہے جو ’اجتماعی انتقام‘ کی پالیسی کی نشاندہی کرتا ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق گزشتہ روز جاری کی جانے والی والی رپورٹ ’تشدد اور نسل کشی‘ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 7 اکتوبر 2023ء کے بعد حراست میں لیے گئے فلسطینیوں کو شدید جسمانی اور نفسیاتی تشدد کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

رپورٹ کے مطابق قیدیوں کو مار پیٹ، جنسی تشدد، بھوک، طبی سہولتوں کی کمی اور غیر انسانی حالات میں رکھا گیا۔

مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق کی صورتحال پر اقوامِ متحدہ کی خصوصی رپورٹر فرانچیسکا البانیز نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی رپورٹ کم از کم 300 گواہیوں اور تحریری شواہد پر مبنی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2023ء کے بعد فلسطینیوں کی گرفتاریوں میں نمایاں اضافہ ہوا اور اب تک 18 ہزار 500 سے زائد افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے جن میں کم از کم 1,500 بچے شامل ہیں۔

تقریباً 9 ہزار فلسطینی اب بھی زیرِ حراست ہیں جبکہ 4 ہزار سے زیادہ افراد جبری گمشدگی کا شکار بتائے گئے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی حراستی نظام ’ذلت، جبر اور خوف‘ کے ایک منظم نظام میں تبدیل ہو چکا ہے۔

البانیز نے اپنی رپورٹ میں مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل فوری طور پر تشدد اور بدسلوکی بند کرے اور عالمی برادری فلسطینی علاقوں کی تباہی روکنے کے لیے عملی اقدامات کرے۔

انہوں نے بین الاقوامی فوجداری عدالت سے بھی مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز، وزیرِ قومی سلامتی ایتامار بن گویر اور وزیرِ خزانہ بیزالیل اسموٹریچ کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنے پر غور کیا جائے۔

دوسری جانب اسرائیل نے رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے فرانچیسکا البانیز پر اسرائیل مخالف تعصب کا الزام لگایا ہے۔

البانیز کی یہ رپورٹ پیر کو اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں پیش کی جائے گی۔

واضح رہے کہ یو این کے خصوصی نمائندے آزاد ماہرین ہوتے ہیں اور وہ براہِ راست اقوامِ متحدہ کی نمائندگی نہیں کرتے۔