اسلام آباد(صغیر چوہدری )
رومانیہ کی جانب سے پاکستان کے قومی ترانے “قومی ترانہ” کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کورل ترتیب اور اسکور پیش کیا گیا ہے رومانیہ کے سفارت خانے کی جانب سے کہا گیا ہے کہ
یومِ پاکستان (23 مارچ) کے موقع پر اسلام آباد میں قائم رومانیہ کے سفارت خانے کو یہ اعلان کرتے ہوئے بہت خوشی ہو رہی ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قومی ترانے “قومی ترانہ” کی تاریخ میں پہلی مرتبہ تیار کی گئی کورل (اجتماعی گائیکی) ترتیب اور اسکور کا باضابطہ اجرا کیا جا رہا ہے۔
یہ منفرد ثقافتی اقدام رومانیہ کے نیشنل چیمبر کوئر “میڈریگل – مارین کانسٹنٹین” نے اسلام آباد میں رومانیہ کے سفارت خانے کے تعاون سے پاکستان اور اس کے عوام کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے طور پر مکمل کیا ہے۔
پاکستان کے قومی ترانے کی موسیقی 1949 میں احمد غلام علی چاگلہ نے ترتیب دی جبکہ اس کے بول 1952 میں معروف اردو شاعر حفیظ جالندھری نے تحریر کیے۔ یہ ترانہ پہلی مرتبہ 13 اگست 1954 کو ریڈیو پاکستان سے نشر کیا گیا اور بعد ازاں اسے باضابطہ طور پر قومی ترانے کی حیثیت دی گئی۔ 1955 میں اسے پاکستان کے گیارہ ممتاز گلوکاروں نے ریکارڈ کیا، جو اس کی ابتدائی کثیر آواز پیشکشوں میں سے ایک تھی۔ اسی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے میڈریگل کوئر کی پیشکش اس ترانے کی ایک منفرد کورل تعبیر پیش کرتی ہے جو پاکستان کے موسیقی ورثے اور قومی ترانے کی دائمی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔
اصل طور پر ایک آرکسٹرل کمپوزیشن کے طور پر تخلیق کیے گئے اس ترانے میں مشرقی موسیقیاتی روایت اور مغربی ہارمونک ساخت کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے۔ میڈریگل کوئر کی اس ترتیب میں اس تخلیق کو پولی فونک کورل انداز میں ازسرِنو پیش کیا گیا ہے، جس میں دھن کو سوپرانو، آلٹو، ٹینر اور باس آوازوں میں تقسیم کیا گیا ہے، جبکہ اصل دھن کے وقار اور موسیقی کی سالمیت کو مکمل طور پر برقرار رکھا گیا ہے۔
قومی ترانے کو کورل انداز میں ترتیب دینا ایک نمایاں موسیقیاتی چیلنج تھا۔ اس کمپوزیشن میں تقریباً 38 مختلف سر (ٹونز) شامل ہیں اور اسے اصل میں تقریباً 21 موسیقی کے آلات کے لیے ترتیب دیا گیا تھا، جس کے باعث اس میں وسیع صوتی دائرہ اور پیچیدہ ہارمونک ترتیب موجود ہے۔ ان آرکسٹرل عناصر کو انسانی آوازوں میں منتقل کرنے کے لیے موسیقی کے جملوں کو کوئر کے مختلف حصوں میں نہایت احتیاط کے ساتھ تقسیم کیا گیا تاکہ موسیقی کا توازن برقرار رہے اور آوازوں کی حدود بھی موزوں رہیں۔ مزید یہ کہ ترانے کی ساخت میں کوئی بار بار دہرایا جانے والا مصرع موجود نہیں بلکہ یہ مسلسل ارتقا پذیر موسیقیاتی جملوں کے ذریعے آگے بڑھتا ہے۔ اس کے علاوہ فارسی آمیز اردو اشعار کی درست ادائیگی اور ہم آہنگ تلفظ بھی کورل انداز میں خاص مہارت کا تقاضا کرتے ہیں۔ طویل تیاری اور مسلسل مشق کے بعد میڈریگل کوئر نے اس آرکسٹرل تخلیق کو ایک نفیس کورل پیشکش میں تبدیل کیا ہے جو اجتماعی آواز کی تاثیر کو نمایاں کرتی ہے اور پاکستان کے قومی ترانے کے موسیقی ورثے کو خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے۔
اس موقع پر پاکستان میں رومانیہ کے سفیر ڈاکٹر ڈین اسٹوئنیسکو نے کہا کہ
ہمیں اس تاریخی ثقافتی منصوبے کی تکمیل پر فخر ہے جو ہمیشہ کے لیے ہماری دونوں قوموں کو جوڑ دے گا۔ پہلی مرتبہ پاکستان کے قومی ترانے، قومی ترانہ، کے لیے ایک باقاعدہ کورل ترتیب اور پیشہ ورانہ طور پر تیار کردہ کورل اسکور دستیاب ہوگا، جو رومانیہ کے نیشنل چیمبر کوئر میڈریگل مارین کانسٹنٹین’کی غیر معمولی فنکارانہ مہارت کی بدولت ممکن ہوا ہے۔ یہ اقدام اس بات کا مظہر ہے کہ ثقافت اور موسیقی لوگوں کے درمیان روابط کو مضبوط بنانے اور دوستی، احترام اور فنّی برتری جیسی مشترکہ اقدار کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔اس اقدام کے تحت کورل ترتیب کے سرکاری البم اور نئے تیار کردہ کورل اسکور کو رومانیہ کے سفیر کی جانب سے پاکستان کی اعلیٰ ترین قیادت کو باضابطہ طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جن میں صدرِ مملکت آصف علی زرداری، وزیرِاعظم شہباز شریف، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر شامل ہیں۔ یہ اقدام رومانیہ اور پاکستان کے درمیان دوستی اور ثقافتی روابط کی علامت ہے۔
1963 میں معروف کنڈکٹر مارین کانسٹنٹین کی جانب سے قائم کیا جانے والا میڈریگل مارین کانسٹنٹین نیشنل چیمبر کوئر موسیقی کے اعلیٰ معیار اور ثقافتی سفارت کاری کی ایک نمایاں علامت بن چکا ہے۔ اپنے منفرد اندازِ آواز، نان وائبراٹو تکنیک، اسٹیج پر مخصوص صوتی ترتیب اور شاندار ملبوسات کے باعث یہ گروپ دنیا کے بڑے اسٹیجز پر ہزاروں کنسرٹس پیش کر چکا ہے اور متعدد بین الاقوامی اعزازات حاصل کر چکا ہے۔قومی ترانے کی یہ عالمی سطح پر پہلی کورل ترتیب “ڈپلومیسی دی اینتھمز آف دی ورلڈ” پروگرام کا حصہ ہے، جس کا آغاز 2021 میں میڈریگل کوئر نے کیا تھا۔ اس پروگرام کا مقصد موسیقی کے ذریعے ثقافتی سفارت کاری اور عالمی مکالمے کو فروغ دینا ہے۔اس فنّی خراجِ تحسین کے ذریعے رومانیہ پاکستان کی تاریخ، شناخت اور قومی اقدار کے لیے اپنے گہرے احترام کا اظہار کرتا ہے اور اس مشترکہ یقین کی توثیق کرتا ہے کہ ثقافت اور موسیقی قوموں کو ایک دوسرے کے قریب لا سکتی ہیں۔
پاکستانی قومی ترانے کی پہلی عالمی کورل پیشکش، رومانیہ کا تاریخی ثقافتی خراجِ تحسین








