پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے پارٹی بانی عمران خان کے مبینہ خفیہ طبی معائنے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ذاتی معالجین کی اجازت کے بغیر کسی بھی قسم کا طبی معائنہ قابل قبول نہیں، اور جیل میں اس طرح کے خفیہ اقدامات نہ صرف تشویش کا باعث ہیں بلکہ بنیادی انسانی حقوق کے بھی منافی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کی صحت کے حوالے سے سنجیدہ خدشات موجود ہیں۔
شیخ وقاص اکرم نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کو فوری طور پر شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور ان کی فیملی اور وکلاء سے ملاقاتوں پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں۔
انہوں نے حکومت کی معاشی پالیسیوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’عید گفٹ‘‘ کے نام پر عوام کو گمراہ کیا گیا، جبکہ ہائی اوکٹین اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق مہنگائی نے غریب اور متوسط طبقے کو شدید متاثر کیا ہے۔
انہوں نے 390 ارب روپے کے کنٹنجنسی فنڈ کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پیٹرولیم لیوی میں اضافہ فوری واپس لیا جائے اور حکومت اپنی شاہ خرچیوں میں کمی کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزراء کو اپنی مراعات میں مکمل کٹوتی کرنی چاہیے تاکہ عوام پر بوجھ کم ہو سکے۔
شیخ وقاص اکرم نے مزید کہا کہ خارجہ پالیسی کی ناکامی کے باعث توانائی بحران مزید سنگین ہو گیا ہے، جبکہ عوامی ریلیف کے دعوے محض اعداد و شمار کا کھیل بن کر رہ گئے ہیں۔
عمران خان کے خفیہ طبی معائنے پر شدید ردعمل، شیخ وقاص اکرم کی مذمت








