بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

پی ایس ایل میں شائقین کی کمی محسوس ہوگی، شاہین شاہ آفریدی

لاہور قلندرز کے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے کہا ہے کہ اگرچہ پی ایس ایل میں اس سال شائقین کی تعداد کم ہو سکتی ہے، لیکن حکومت کے فیصلے کو سب کو ساتھ مل کر سپورٹ کرنا چاہیے۔ انہوں نے خصوصی انٹرویو میں بتایا کہ لاہور قلندرز کی تیاریوں کا معیار کافی بہتر ہے اور رمضان میں لگائے گئے تربیتی کیمپ میں کئی کھلاڑی شریک ہوئے تھے، جن میں سکندر رضا بھی شامل تھے۔
شاہین نے کہا کہ اس بار ٹیم میں کئی نوجوان باصلاحیت کھلاڑی موجود ہیں اور وہ بہترین کھیل پیش کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم جلد یکجا ہو کر اچھا پرفارم کرے گی، اور کاغذ پر تو تمام ٹیمیں مضبوط نظر آتی ہیں۔ نئے کھلاڑیوں کو مواقع دینے کی کوشش اس لیے کی جا رہی ہے تاکہ وہ غیرملکی کرکٹرز سے سیکھیں اور مستقبل میں پاکستان ٹیم کے لیے بہتر پرفارم کر سکیں۔
انہوں نے شائقین کے کردار کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ مداح ہمیشہ کرکٹ کو سپورٹ کرتے ہیں اور ان کی موجودگی کھلاڑیوں کو مزید بہتر کھیلنے کی تحریک دیتی ہے۔ اس بار میچز کے دوران شائقین کی کمی محسوس ہوگی، لیکن حکومت کے فیصلے کو سب کو سپورٹ کرنا ہوگا اور کوشش ہوگی کہ ٹیم اچھی کرکٹ کھیل کر ٹی وی پر دیکھنے والوں کو لطف اندوز کرے۔
فخر زمان کے بارے میں شاہین نے کہا کہ یہ ان کا لاہور قلندرز کے ساتھ دسواں سال ہے اور وہ ٹیم کی ریڑھ کی ہڈی ثابت ہوئے ہیں۔ ان کی کارکردگی سب کے سامنے ہے، اور اچھی فارم میں وہ کسی بھی حریف کے لیے مشکل کھڑی کر سکتے ہیں۔ فخر زمان کو کوئی خطرناک انجری نہیں تھی، بلکہ میڈیکل ٹیم نے انہیں آرام کا مشورہ دیا تھا تاکہ جسم مکمل ساتھ دے سکے۔
سکندر رضا کے بارے میں شاہین نے کہا کہ وہ ایک مثالی کرکٹر ہیں، گزشتہ سال زمبابوے کے ٹیسٹ میچ کے ایک دن بعد فائنل کے لیے پہنچ گئے، اور نوجوان کھلاڑیوں کے ساتھ کیمپ میں شامل ہو کر ٹیم کے لیے اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔
حارث رؤف کے بارے میں کہا کہ وہ ایک فائٹر کرکٹر ہیں، اور ان کی پیس بولنگ اور فیلڈنگ ٹیم کے لیے ہمیشہ اہم رہی ہے۔
ڈاسن شناکا کے پی ایس ایل چھوڑ کر آئی پی ایل جانے کے فیصلے سے ٹیم کی کمبی نیشن متاثر نہیں ہوئی۔ شاہین نے کہا کہ ٹیم میں ہر شعبے کے کھلاڑی موجود ہیں اور کوشش یہی ہے کہ اصل ٹیم برقرار رہے۔ نئے کھلاڑی جلد ٹیم میں سیٹ نہیں ہوتے، اسی لیے انہیں مکمل مواقع دیے جاتے ہیں۔
شاہین نے نوجوان کھلاڑیوں محمد نعیم، محمد فاروق، عبید شاہ اور معاذ خان کی تعریف کی اور کہا کہ یہ باصلاحیت کھلاڑی نہ صرف پی ایس ایل میں بلکہ مستقبل میں پاکستان ٹیم کے لیے بھی کام آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ لاہور قلندرز ان کی فیملی ہے، اور ہر میچ میں بہترین کارکردگی پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ورلڈکپ میں بعض میچز فتح کے قریب پہنچ کر ہارنے کے باوجود، ٹیم اب آئندہ مواقع میں بہتر پرفارم کرنے کی کوشش کرے گی۔
کپتانی کے حوالے سے شاہین نے کہا کہ ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی میں کپتان کے فیصلے کا فرق ہوتا ہے، لیکن ہمیشہ کوشش یہی ہوتی ہے کہ سب کو ساتھ لے کر چلیں اور ٹیم کو فتح دلائیں۔ انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں پر غصہ ظاہر کرنا پسند نہیں، کرکٹ ایک کھیل ہے اور اسے کھیلتے ہوئے لطف اندوز ہونا چاہیے۔
بولنگ میں جارحیت کے باوجود شاہین نے کہا کہ یارکرز میں کمی کی تنقید کو مسترد کرتے ہیں، کرکٹ ان کے شوق کی وجہ سے شروع ہوئی، اور ہمیشہ پاکستان کے لیے بہتر فیصلہ کریں گے۔ بابر اعظم سمیت کسی بھی ٹیم کے خلاف میچ میں، ٹیم کی فتح یقینی بنانے کی پوری کوشش کریں گے۔