پاکستانی گلوکارہ میشہ شفیع کی والدہ صبا حمید نے اپنی بیٹی اور گلوکار علی ظفر کے کیس پر پہلی بار میڈیا کے سامنے خاموشی توڑ دی ہے۔
یہ معاملہ اپریل 2018 سے زیرِ سماعت ہے، جب میشا شفیع نے علی ظفر پر ہراسانی کا الزام عائد کیا تھا۔ علی ظفر اور ان کے اہل خانہ نے ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ الزامات گلوکار کو بدنام کرنے کے لیے لگائے گئے ہیں۔
دونوں گلوکار کالج کے زمانے سے قریبی دوست رہے ہیں اور مختلف تقریبات میں ساتھ نظر آتے تھے۔ حتیٰ کہ میشا شفیع نے علی ظفر کے مشہور گانے “چل دل میرے” میں بھی کام کیا۔ تاہم، گزشتہ آٹھ سالوں سے یہ قانونی جنگ جاری ہے اور کیس تاحال عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔
اب میشا شفیع کینیڈا میں مقیم ہیں، اس لیے ان کی نمائندگی ان کی والدہ صبا حمید کر رہی ہیں۔ عدالت کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے صبا حمید نے کہا:کیس عدالت میں چل رہا ہے، میں اس پر زیادہ بات نہیں کر سکتی، لیکن ہم پیچھے نہیں ہٹے اور کیس کو فالو کرتے رہیں گے۔”
اس دوران عدالت سے باہر علی ظفر اور ان کی اہلیہ عائشہ فضلی بھی نظر آئے، اور سوشل میڈیا پر صارفین کیس پر متحرک ہیں، جہاں کئی افراد صبا حمید کے قانونی اقدامات کو سراہ رہے ہیں۔
علی ظفر اور میشا شفیع کیس: گلوکارہ کی والدہ نے خاموشی توڑ دی








