بھارت کی ریاست گجرات کے علاقے پالن پور میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں گھریلو ملازمہ نے سونا اور نقدی واپس مانگنے پر اپنی مالکن کو قتل کر دیا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ملزمہ ریکھا راٹھور گزشتہ 15 سال سے شانتی بین اور ان کے خاندان کے ساتھ کام کر رہی تھی۔ وقت کے ساتھ دونوں کے درمیان قریبی تعلقات قائم ہو گئے تھے۔
پولیس کے مطابق ریکھا نے بعد ازاں فرنیچر کا کاروبار شروع کیا، جس کے لیے تقریباً ایک سال قبل شانتی بین نے اس کی مالی مدد کرتے ہوئے سونے کے زیورات اور نقد رقم بطور قرض فراہم کی تھی۔
تاہم جب شانتی بین نے اپنی رقم اور زیورات واپس مانگے تو ملزمہ نے انہیں راستے سے ہٹانے کا منصوبہ بنایا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ریکھا نے شانتی بین کو اپنی دکان پر بلایا، جہاں اس نے اپنے چار ساتھیوں کے ساتھ مل کر انہیں نشہ آور چیز دے کر قتل کر دیا۔
واقعے کے بعد شانتی بین کے اہلِ خانہ نے ان کی گمشدگی کی رپورٹ درج کروائی، جس پر پولیس نے تحقیقات کا آغاز کیا۔ تفتیش کے دوران انکشاف ہوا کہ مقتولہ کی لاش کو بوری میں بند کر کے شو روم کے تہہ خانے میں چھپا دیا گیا تھا۔
پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزمہ ریکھا اور اس کے ساتھیوں کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔
بھارت: گھریلو ملازمہ نے سونا اور نقدی کے تنازع پر مالکن کو قتل کر دیا








