لندن۔ برطانوی میڈیا میں شائع ایک تجزیے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اگر امریکا ایران پر مکمل کنٹرول حاصل کرنا چاہے تو اسے کم از کم 10 لاکھ فوجیوں کی ضرورت پڑے گی، جبکہ محدود فوجی تعیناتی اس مقصد کے لیے ناکافی ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق دفاعی تجزیہ کار سیم کیلی نے اپنے مضمون میں لکھا کہ ماضی کی جنگیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ ایران جیسے بڑے اور مضبوط ملک میں محدود زمینی کارروائی نہ صرف غیر حقیقت پسندانہ ہے بلکہ خطرناک نتائج بھی پیدا کر سکتی ہے۔
تجزیے میں بتایا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مشرق وسطیٰ میں مزید 10 ہزار فوجی بھیجنے پر غور کر رہے ہیں، جو پہلے سے موجود تقریباً 8 ہزار امریکی فوجیوں کے ساتھ مل کر ممکنہ کارروائیوں میں حصہ لے سکتے ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق یہ تعداد کسی بڑی کامیابی کے لیے کافی نہیں۔
رپورٹ میں عراق اور افغانستان کی جنگوں کی مثال دیتے ہوئے کہا گیا کہ عراق میں 2007-2008 کے دوران تقریباً 1 لاکھ 85 ہزار امریکی اور اتحادی فوجی تعینات تھے، جبکہ افغانستان کے صوبہ ہلمند میں بھی ہزاروں فوجیوں کی موجودگی کے باوجود مکمل استحکام حاصل نہیں ہو سکا۔
ماہرین کے مطابق ایران کا جغرافیہ، آبادی اور فوجی صلاحیت خاصی وسیع اور مضبوط ہے، جس میں پاسداران انقلاب، باقاعدہ فوج اور بسیج ملیشیا شامل ہیں، لہٰذا کسی بھی بڑے زمینی آپریشن کے لیے لاکھوں فوجیوں کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔
تجزیے میں مزید کہا گیا ہے کہ ابتدائی حملوں میں امریکا کچھ اہداف حاصل کر سکتا ہے، جیسے تیل کی تنصیبات یا اہم مقامات پر کنٹرول، لیکن بعد ازاں شدید مزاحمت، گوریلا جنگ اور ڈرون حملے جنگ کو طویل اور مہنگا بنا سکتے ہیں۔
برطانوی فوج کے سابق سینئر افسران کا بھی کہنا ہے کہ واضح حکمت عملی کے بغیر ایسی جنگ ناکامی پر ختم ہو سکتی ہے، اور موجودہ حالات میں ایران کے خلاف بڑی زمینی جنگ عالمی سطح پر سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔
ایران پر مکمل کنٹرول کے لیے امریکا کو 10 لاکھ فوجیوں کی ضرورت، برطانوی میڈیا کا دعویٰ








