تمام ممالک آبنائے ہرمز میں اپنی موجودگی یقینی بنائیں،ڈونلڈ ٹرمپ
واشنگٹن(نیوزڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف حالیہ فوجی کارروائی کو “تاریخی کامیابی” قرار دیتے ہوئے عندیہ دیا ہے کہ امریکا اپنے مقاصد کے حصول کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کو تیار ہے۔ امریکی فوج کی جانب سے ایران کی متعدد اہم عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد ایران کی طرف سے بھی ردعمل سامنے آیا ہے، اور خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
صدر ٹرمپ نے ایران کو 6 اپریل 2026 تک کی واضح ڈیڈ لائن دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس عرصے میں کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکا ایران کی اہم تنصیبات، جن میں بجلی گھر اور آئل فیلڈز شامل ہیں، کو مکمل طور پر تباہ کرنے سے بھی گریز نہیں کرے گا۔ تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک جانب وہ سخت بیانات دے رہے ہیں تو دوسری طرف مذاکرات کے حوالے سے “مثبت پیش رفت” کا بھی ذکر کر رہے ہیں، جس سے امریکی پالیسی میں بظاہر تضاد محسوس ہوتا ہے۔
عالمی سطح پر بھی اس صورتحال پر ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ صدر ٹرمپ اپنے نیٹو اتحادیوں، خصوصاً برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر سے ناراضی کا اظہار کر چکے ہیں، کیونکہ برطانیہ نے ابتدائی طور پر اس فوجی کارروائی کے لیے اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ انہوں نے دیگر ممالک پر بھی زور دیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں اپنی موجودگی یقینی بنائیں تاکہ عالمی توانائی کی ترسیل متاثر نہ ہو۔
دوسری جانب امریکا کے اندر بھی اہم پیش رفت جاری ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ ملکی کرنسی پر صدر ٹرمپ کے دستخط شامل کیے جائیں گے، جو ایک غیر معمولی اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی امریکی سپریم کورٹ میں ان کی کچھ پالیسیوں، خصوصاً پیدائشی شہریت سے متعلق احکامات، کو چیلنج کیا جا رہا ہے، جو ان کے لیے ایک بڑا داخلی امتحان بن سکتا ہے۔
مجموعی طور پر صدر ٹرمپ کا مؤقف یہ ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنا چاہتے ہیں، مگر اس کے ساتھ ہی ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے سخت اقدامات سے بھی گریز نہیں کریں گے۔ 6 اپریل کی ڈیڈ لائن کو اس تمام صورتحال میں ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے، جو آنے والے دنوں میں خطے کی سمت کا تعین کر سکتی ہے۔









