بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

اے آئی چیٹ بوٹس سے رشتوں کیلئےمشورے کرنا تباہ کن ہوسکتا ہے، تحقیق

اسلام آباد(ویب ڈیسک)آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) چیٹ بوٹس جیسے چیٹ جی پی ٹی کا استعمال متعدد شعبوں میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔مگر انہیں کبھی بھی مشورے حاصل کرنے کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ رشتوں کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔یہ بات ایک نئی تحقیق میں سامنے آئی۔

جرنل سائنس میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ اے آئی چیٹ بوٹس اب آسانی سے ہر ایک کو دستیاب ہیں اور وہ جذبات کی نقل کرنے میں بہت زیادہ اچھے ہیں، درحقیقت اتنے زیادہ اچھے ہوتے ہیں کہ وہ صارفین کی باتوں پر فوری اتفاق کرلیتے ہیں جس سے بتدریج بڑے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔اس تحقیق میں دیکھا گیا تھا کہ اے آئی ماڈلز کس طرح صارفین کے ذاتی اختلافات اور رہنمائی حاصل کرنے کی کوششوں پر ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔

نتائج کافی دنگ کر دینے وال تھے کیونکہ تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ اے آئی ماڈلز تناظر یا حالات کی بجائے صارف کے رویوں کے مطابق ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔تحقیق میں 11 اے آئی ماڈلز کی جانچ پڑتال کی گئی اور دریافت ہوا کہ اے آئی صارفین کے اقدامات کی توثیق انسانوں کے مقابلے میں 49 فیصد زیادہ کرتے ہیں، چاہے ان کے سوالات دھوکے، غیر قانونی اقدامات یا دیگر نقصانات کے حوالے سے ہوں۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ اکثر جب لوگوں کی جانب سے کسی تنازع کے دوران اے آئی سے رہنمائی حاصل کی جاتی ہے تو وہ صارف کے جذبات یا اقدامات سے اتفاق کرتے ہوئے انہیں درست قرار دیتے ہیں اور یہ ہمدردی اکثر مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔تحقیق کے مطابق اگر کوئی فرد اصرار کرے کہ اس نے کبھی کچھ غلط نہیں کیا یا وہ رشتے داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہے یا خود کو آگ لگا دے گا، تو چیٹ بوٹ کی جانب سے ان اقدامات یا خیالات سے اتفاق کیا جاتا ہے۔

محققین نے دریافت کیا کہ چیٹ بوٹس کی جانب سے واضح طور پر تو نہیں کہا جاتا کہ صارف درست ہے بلکہ نرم زبان میں خطرناک رویوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ لوگ اے آئی چیٹ بوٹس سے زیاہد جڑ جاتے ہیں اور انہیں لگتا ہے کہ وہ کچھ غلط نہیں کر رہے۔