اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے بندرگاہوں پر پھنسے ہوئے کنٹینرز اور زائد سامان کی منتقلی، نیلامی اور تلفی کے لیے 30 روزہ جامع منصوبہ تیار کرکے اس پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے تاکہ بندرگاہی ٹرمینلز پر رش کم کر کے آپریشنل کارکردگی بہتر بنائی جا سکے۔
کراچی پورٹ ہر پھنسے ہوئے کنٹینرز اور قابلِ نیلامی کارگو کی منتقلی سے متعلق ذیلی کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وفاقی وزیر جنید انوار چوھدری نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ مقررہ مدت کے اندر آن ڈاک ایریاز سے کنٹینرز اور جمع شدہ سامان کو محفوظ اور متعین مقامات پر منتقل کیا جائے۔
انہوں نے زور دیا کہ بندرگاہی آپریشنز کو ہر صورت ہموار رکھا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ٹرانس شپمنٹ کارگو کے باعث ملکی تجارت متاثر نہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ بہتر بندرگاہی کارکردگی اور بدلتے ہوئے علاقائی حالات کے باعث ٹرانس شپمنٹ کارگو میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے پیش نظر آن ڈاک جگہ کی دستیابی اور اس کارگو کو بتدریج آف ڈاک سہولیات پر منتقل کرنا ضروری ہے۔
وفاقی وزیر نے ٹرانس شپمنٹ کارگو کو آف ڈاک ٹرمینلز منتقل کرنے کے لیے واضح اور مؤثر طریقہ کار وضع کرنے کی ہدایت بھی کی، جبکہ آف ڈاک سہولیات کی جامع فہرست اور ٹرانس شپمنٹ کارگو کا مکمل ریکارڈ مرتب رکھنے پر بھی زور دیا۔
جنید انوار چوہدری نے کہا کہ پاکستان کو اپنی بندرگاہوں کی بڑھتی ہوئی صلاحیت سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے اور اس مقصد کے لیے ایک دور اندیش حکمت عملی اپنانا ناگزیر ہے تاکہ اسے مزید وسعت دی جا سکے۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے حکام نے بتایا کہ پھنسے ہوئے کنٹینرز اور زائد سامان کو اسکائی میڈیا ٹرمینل، الحماد ٹرمینل، ناردرن بائی پاس اور دیگر آف ڈاک ٹرمینلز منتقل کیا جا سکتا ہے۔
اجلاس میں یہ بھی زیر بحث آیا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) ایسے کنٹینرز کی 30 روز کے اندر ری ایکسپورٹ کی اجازت دے گا جن کے لیے گڈز ڈیکلریشنز جمع نہیں کرائے گئے، جبکہ شپنگ کمپنیوں کو ضابطہ کار کے مطابق لاوارث کنٹینرز ہٹانے اور تلف کرنے کی اجازت بھی دی جائے گی۔
کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) کو ہدایت کی گئی کہ وہ ٹرمینل آپریٹرز سے کنٹینرز کی منتقلی کے تفصیلات حاصل کرکے رواں ہفتے کے اختتام تک ذیلی کمیٹی اور کسٹمز حکام کے ساتھ شیئر کرے۔
علاوہ ازیں اجلاس میں پھنسے ہوئے کنٹینرز کی نیلامی کے منصوبے پر بھی غور کیا گیا۔ کسٹمز حکام کو ہدایت دی گئی کہ وہ دستیاب قانونی اختیارات استعمال کرتے ہوئے ایک ماہ کے اندر ایسے کارگو کو ٹھکانے لگائیں۔ حکام کے مطابق آف ڈاک ٹرمینلز پر آنے والے اسٹوریج اخراجات نیلامی کی رقم سے منہا کیے جائیں گے، جس کے لیے قواعد میں ترمیم درکار ہوگی۔
ٹرمینل آپریٹرز کو یہ بھی ہدایت کی گئی کہ وہ زائد سامان، بشمول لکڑی کے پیلیٹس اور غیر استعمال شدہ آلات، کو بھی مقررہ مدت میں ٹھکانے لگائیں، جبکہ کسٹمز حکام نے فوری نیلامی یقینی بنانے کے لیے مخلوط لاٹس کے لیے مناسب ریزرو قیمتیں مقرر کر دی ہیں۔
وفاقی وزیر نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ مربوط اقدامات کے ذریعے بندرگاہوں پر رش میں نمایاں کمی آئے گی، تجارت کو سہولت ملے گی اور بحری شعبے میں مجموعی لاجسٹکس کی کارکردگی میں بہتری آئے گی۔









