بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

دہلی ہائی کورٹ کا راجپال یادو کو 9 کروڑ روپے چیک باؤنس کیس میں سخت انتباہ، فیصلہ محفوظ

نئی دہلی (نیوز ڈیسک)بھارتی اداکار راجپال یادو کے خلاف 9 کروڑ روپے کے چیک باؤنس کیس میں نئی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں دہلی ہائی کورٹ نے سماعت کے دوران سخت ریمارکس دیتے ہوئے اداکار کو ادائیگی کے معاملے میں تاخیر پر تنبیہ کی ہے۔ عدالت نے معاملے کا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق دہلی ہائی کورٹ میں ایک نجی کمپنی کی جانب سے دائر کیس کی سماعت ہوئی، جو پہلے 2024 کے ایک فیصلے سے جڑا ہوا ہے جس میں راجپال یادو کو واجبات کی عدم ادائیگی پر سزا سنائی گئی تھی۔ سماعت کے دوران جسٹس سوارنا کانتا شرما نے اداکار کے بیانات میں تضاد پر تشویش کا اظہار کیا۔

سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی فریق ادائیگی کے لیے آمادہ ہے تو پھر تاخیر کی کوئی گنجائش نہیں۔ جج نے واضح انداز میں کہا کہ عدالتی نرمی کو کمزوری نہ سمجھا جائے اور فریق کو فوری طور پر ادائیگی کے عمل کو آگے بڑھانا چاہیے۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ اداکار کے اپنے مؤقف اور ان کے وکیل کے دلائل میں فرق پایا گیا ہے۔ جہاں اداکار کی جانب سے ادائیگی کی آمادگی ظاہر کی گئی، وہیں ان کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سزا مکمل ہونے کے بعد مزید ادائیگی لازم نہیں ہونی چاہیے۔

راجپال یادو کی جانب سے مزید وقت کی درخواست بھی کی گئی، تاہم عدالت نے اسے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ معاملہ مزید طول نہیں دیا جائے گا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ درخواستیں سن لی گئی ہیں اور اب فیصلہ محفوظ کیا جا رہا ہے۔

کیس کا آغاز مئی 2024 میں اس وقت ہوا جب سیشن کورٹ نے چیک باؤنس کیس میں انہیں چھ ماہ قید کی سزا سنائی تھی۔ بعد ازاں ہائی کورٹ نے ادائیگی کی یقین دہانی پر سزا معطل کر دی تھی، تاہم عدالت کے مطابق سابقہ وعدے مکمل نہیں کیے گئے۔

فروری 2026 میں عدالت نے عدم تعمیل پر انہیں سرنڈر کرنے کی ہدایت دی، جس کے بعد وہ گرفتاری کے بعد قید میں رہے اور بعد ازاں جزوی ادائیگی پر عبوری ریلیف حاصل کیا۔

سماعت کے دوران شکایت کنندہ کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ سزا کاٹ لینے سے مالی ذمہ داری ختم نہیں ہوتی۔ عدالت نے ممکنہ یکمشت تصفیے پر بھی غور کیا، جبکہ اداکار نے عدالت کی ہدایات پر عمل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

عدالت نے تمام دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا ہے، جس کا اعلان آئندہ کسی تاریخ پر متوقع ہے۔