اسلام آباد:(نیوزڈیسک) بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی میں نرمی کی درخواست کو قبول کرنے سے گریز ظاہر کیا ہے، اگرچہ حکومت ایران جنگ کے سبب عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتوں کے اثرات سے عوام کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ریلیف دینے کی کوشش کر رہی ہے۔
باخبر ذرائع کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف کو جمعرات کو آئی ایم ایف کے ابتدائی ردعمل کے بارے میں آگاہ کیا گیا، جس میں لیوی کے ڈھانچے میں کسی قسم کی رعایت کی حمایت نہیں کی گئی۔
تاہم وزیر اعظم نے وزارت خزانہ کو ہدایت کی کہ وہ دوبارہ آئی ایم ایف سے رابطہ کرے اور عوام پر بوجھ کم کرنے کے لیے نرمی کی تجویز دوبارہ پیش کرے۔
ذرائع نے بتایا کہ وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافے کا مکمل اثر صارفین پر منتقل کرنا عوام کے لیے ’’کچھ زیادہ‘‘ ہوگا اور مہنگائی میں نمایاں اضافہ کر سکتا ہے۔
حکومت نے پیٹرول137 روپے 24 پیسے اور ڈیزل 184 روپے 49 پیسے فی لیٹر مہنگا کر دیا
انہوں نے اقتصادی حکام سے کہا کہ وہ تمام ممکنہ اقدامات پر غور کریں تاکہ اس صورتحال کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی ہے جب حکومت پہلے ہی آئی ایم ایف سے پیٹرولیم لیوی میں تبدیلی کی اجازت لینے کی کوشش کر رہی تھی تاکہ عالمی قیمتوں کے اثرات کا کچھ حصہ عوام پر نہ آئے۔
تاہم فنڈ محتاط ہے اور پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کو اہم ریونیو ذریعہ اور جاری پروگرام کی شرائط کے ایک کلیدی جزو کے طور پر دیکھ رہا ہے۔اس مسئلے پر اس ہفتے کے آغاز میں بھی بات ہوئی تھی۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے وزارت خزانہ کو ہدایت کی تھی کہ وہ پیٹرول اور ڈیزل پر لگنے وا لی لیوی کے ڈھانچے کے بارے میں آئی ایم ایف سے رابطہ کرے، تاکہ ایران جنگ کے باعث بڑھتی ہوئی عالمی تیل کی قیمتوں کا عوام پر اضافی بوجھ نہ پڑے۔وزیر اعظم نے کہا کہ وزارت خزانہ IMF سے یہ معاملہ اٹھائے تاکہ اگر پیٹرولیم قیمتوں میں کسی قسم کی ضرورت کے مطابق ایڈجسٹمنٹ ہو، تو اسے موجودہ محصولات کے ساتھ متوازن کیا جا سکے۔
اس وقت حکومت پیٹرول پر فی لیٹر 100 روپے اور ڈیزل پر فی لیٹر 55 روپے لیوی عائد کر رہی ہے، جو آئی ایم ایف کی شرائط کا حصہ ہیں۔ حکومت پہلے ہی صارفین کو خاطر خواہ ریلیف فراہم کر چکی ہے، تقریباً 129 ارب روپے سبسڈی کے ذریعے ایندھن کی قیمتیں مستحکم رکھی گئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق یہ ریلیف ترقیاتی بجٹ میں کمی اور دیگر اخراجات میں بچت کے ذریعے ممکن بنایا گیا، جو ظاہر کرتا ہے کہ حکومت عوام کو بیرونی جھٹکوں سے محفوظ رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔








