بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

پاکستان کا بڑا معاشی قدم، یو اے ای کا 2 ارب ڈالر قرض واپس کرنکا فیصلہ

اسلام آباد / دبئی(نیوزڈیسک) پاکستان ایک اہم معاشی مرحلے میں داخل ہو رہا ہے، جہاں حکومت نے متحدہ عرب امارات (UAE) کے 2 ارب ڈالر کے قرض کے حوالے سے فیصلہ کن اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ یہ پیش رفت نہ صرف ملکی معیشت بلکہ عالمی مالیاتی حلقوں میں پاکستان کے اعتماد کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق، United Arab Emirates نے اس قرض کی واپسی کے لیے دی گئی مدت 17 اپریل 2026 تک بڑھا رکھی تھی، اور اب اس ڈیڈ لائن کے قریب آتے ہی پاکستان واپسی یا مزید توسیع کے حوالے سے حتمی فیصلے کے قریب ہے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بار صورتحال ماضی سے مختلف ہے۔ State Bank of Pakistan کے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر 21 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں، جس سے حکومت کو بیرونی ادائیگیوں کے حوالے سے کافی اعتماد ملا ہے۔

اس قرض پر تقریباً 6.5 فیصد شرح سود بھی ایک اہم عنصر ہے، جس کی وجہ سے حکومت مہنگے قرضوں سے جان چھڑانے اور مالی بوجھ کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

دوسری جانب پاکستان اس وقت International Monetary Fund کے پروگرام کے تحت بھی کام کر رہا ہے، جہاں دوست ممالک سے لیے گئے قرضوں کو برقرار رکھنا یا بہتر انداز میں نمٹانا ایک اہم شرط ہے۔ اس تناظر میں یو اے ای کے قرض سے متعلق فیصلہ بڑی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق، اگر پاکستان یہ قرض کامیابی سے واپس کرتا ہے تو یہ عالمی مارکیٹ کو ایک مضبوط پیغام دے گا کہ ملک اب مالی طور پر مستحکم ہو رہا ہے اور ڈیفالٹ کے خطرے سے باہر نکل چکا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان اور یو اے ای کے تعلقات اب صرف قرض تک محدود نہیں رہے۔ دونوں ممالک کے درمیان توانائی، بندرگاہوں اور زراعت کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے نئے دروازے بھی کھل رہے ہیں، جو مستقبل میں معیشت کے لیے مثبت ثابت ہو سکتے ہیں۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اب ترجیح صرف قرض لینا نہیں بلکہ معیشت کو اس مقام پر لانا ہے جہاں بیرونی سرمایہ کاری کے ذریعے پائیدار ترقی حاصل کی جا سکے۔

یہ فیصلہ آنے والے دنوں میں روپے کی قدر، مہنگائی اور سرمایہ کاری کے ماحول پر بھی واضح اثرات مرتب کر سکتا ہے، جس پر ملکی و عالمی حلقوں کی گہری نظر ہے۔