اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے کہا ہے کہ شپنگ ایجنٹس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ان ٹرانزٹ شپمنٹس یا دیگر روٹس پر بھیجنے والی کھیپ پر کسی قسم کے جنگی سرچارجز عائد نہیں کیے جا رہے۔
درآمد کنندگان اور برآمد کنندگان کو درپیش مسائل کے حل کے لیے منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے پیشگی اقدامات پہلے ہی نافذ کیے جا چکے ہیں۔ کسٹمز حکام نے تاجروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ کسی بھی غیر ضروری یا ناجائز سرچارج کی فوری نشاندہی کریں، جبکہ اب تک تقریباً 10 شکایات پر کارروائی کی جا چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس عمل سے شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنایا جا رہا ہے اور تجارتی برادری کے مفادات کا تحفظ ہو رہا ہے۔
جنید انوار چوھدری نے مزید بتایا کہ پاکستان شپ ایجنٹس ایسوسی ایشن اور آل پاکستان شپنگ ایسوسی ایشن سمیت اہم صنعتی تنظیمیں ہدایات جاری کریں گی جن کے تحت تاجر برادری کے دیگر اراکین کو بندرگاہوں پر پھنسے برآمدی کنٹینرز پر ریٹینشن فیس وصول نہ کرنے کی تلقین کی جائے گی۔ اس کے علاوہ ٹرمینل آپریٹرز نے بھی 3 مارچ 2026 سے قبل پہنچنے والے برآمدی کنٹینرز پر ڈیمرج چارجز میں ریلیف دینے پر اتفاق کیا ہے۔
وفاقی وزیر کے مطابق یہ اقدامات حکومت کی اس وسیع حکمت عملی کا حصہ ہیں جس کا مقصد مسلسل لاجسٹک مسائل کے باعث بندرگاہوں پر بڑھتے دباؤ کو کم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بندرگاہی حکام، کسٹمز اور شپنگ سے وابستہ شراکت داروں کے ساتھ قریبی رابطے میں رہتے ہوئے کارگو کی نقل و حرکت کو تیز اور برآمد کنندگان پر مالی بوجھ کو کم کیا جا رہا ہے۔
محمد جنید انوار چوہدری نے کہا کہ ان اقدامات سے بلیو اکانومی میں بہتری آئے گی اور عالمی سطح پر درپیش چیلنجز کے باوجود برآمد کنندگان کو سہولت میسر آئے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت ایک مستحکم اور مؤثر تجارتی ماحول کے قیام کے لیے پرعزم ہے۔
وفاقی وزیر بحری امور نے تاجروں پر زور دیا کہ وہ چوکس رہیں اور کسی بھی بے ضابطگی کی صورت میں فوری طور پر سرکاری ذرائع کے ذریعے اطلاع دیں









