بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

امریکی طیارے مار گرائے جانے کے نایاب واقعات

امریکی لڑاکا طیاروں کو مار گرائے جانے کے واقعات تاریخ میں بہت کم دیکھنے کو ملتے ہیں، اسی لیے ایسے واقعات کو غیر معمولی اہمیت دی جاتی ہے۔ گزشتہ چند دہائیوں میں اس نوعیت کے چند ہی واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جنہوں نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق مارچ کے اوائل میں کویت میں تین امریکی F-15 fighter jet طیارے ’دوستانہ فائر‘ کے واقعے میں تباہ ہو گئے تھے۔ خوش قسمتی سے اس واقعے میں عملے کے تمام چھ ارکان بحفاظت نکلنے میں کامیاب رہے۔
اسی ماہ 12 مارچ کو مغربی عراق میں ایک اور حادثہ پیش آیا، جس میں امریکی فوج کے ایندھن بھرنے والے طیارے کو نقصان پہنچا اور اس میں سوار چھ اہلکار جان کی بازی ہار گئے۔
Iraq War کے دوران بھی ایسے واقعات دیکھنے میں آئے۔ سات اپریل 2003 کو ایک امریکی F-15E Strike Eagle طیارہ گر کر تباہ ہوا، جس میں پائلٹ ایرک داس اور ہتھیاروں کے افسر ولیم واٹکنز ہلاک ہو گئے۔ یہ طیارہ قطر کے العدید ایئر بیس سے اڑا تھا اور عراق کے شہر تکریت میں اہداف کو نشانہ بنانے کے مشن پر تھا۔
اسی جنگ کے دوران آٹھ اپریل 2003 کو ایک امریکی A-10 Thunderbolt II طیارہ بغداد میں زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل کا نشانہ بنا۔ تاہم اس کے پائلٹ نے بروقت باہر نکل کر اپنی جان بچا لی۔
بعد ازاں مارچ 2011 میں، Libyan Civil War کے دوران شمال مشرقی لیبیا میں ایک اور F-15E Strike Eagle طیارہ گر کر تباہ ہوا۔ پائلٹ کو بحفاظت نکالنے کے لیے فوری ریسکیو آپریشن کیا گیا، جس میں چار طیارے اور دو ہیلی کاپٹر حصہ لیا۔
یہ تمام واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ امریکی طیاروں کو مار گرایا جانا یا حادثات کا شکار ہونا ایک نایاب مگر اہم معاملہ ہوتا ہے، جس پر عالمی سطح پر گہری نظر رکھی جاتی ہے۔