اسلام آباد۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق، حکومت پاکستان نے رواں مالی سال کے جولائی تا دسمبر کے دوران قرضوں پر سود کی مد میں 5300 ارب روپے سے زائد رقم ادا کی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق جون 2025 تک ملک پر واجب الادا سود کی رقم 8900 ارب روپے تھی، جبکہ دسمبر تک یہ رقم 3600 ارب روپے تک کم ہو گئی۔ اس دوران قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے کل 8207 ارب روپے مختص کیے گئے تھے۔
پاکستان پر ملکی اور غیر ملکی قرضوں کا مجموعی حجم 81 ہزار 400 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، جس میں سے 26 ہزار ارب روپے بیرونی قرضے اور 55 ہزار ارب روپے مقامی قرضے ہیں۔ رواں مالی سال کی بقیہ 2900 ارب روپے سود کی ادائیگیاں حکومت کو جون تک کرنی ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے مختص رقم بجٹ کا 46.7 فیصد ہے، اور مجموعی قرض ملک کی جی ڈی پی کے 70.7 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جس سے مالی دباؤ کی شدت ظاہر ہوتی ہے۔
پاکستان نے مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں 5300 ارب روپے سود کی مد میں ادا کیے








