بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

معاشی بدحالی فوری انتخابات کی متحمل نہیں ہوسکتی

اسلام آباد (قاضی سمیع اللہ سے)پنجاب میں ضمنی انتخابات کے بعد ایک بار پھر مختلف حلقوں سے یہ کہا جانے لگا ہے کہ ملکی سیاسی عدم استحکام کا واحد حل عام انتخابات کے فوری انعقاد میں مضمر ہے ، ایسے میں اگر عام انتخابات کے فوری انعقاد کا اعلان کردیا جائے ،کیا ہوگا ،یہی وہ سوال ہے جو ملکی سیاست ہی نہیں بلکہ ریاستی استحکام کے لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے ،نئی حکومت کی تشکیل میں یقینا تین سے چار ماہ عرصہ لگ سکتا ہے ۔اس دوران ملکی معیشت کا کیا حال ہوگا اور سب سے بڑھ کر عالمی مالیاتی ادارے کا پاکستان کے حوالے سے ’’رویہ ‘‘ کیا ہوگا جبکہ آئی ایم ایف یہ کہہ چکا ہے کہ وہ اگلے تین سے چار ہفتوں میں ’’پہلی قسط‘‘جاری کردے گا ۔لیکن موجودہ سیاسی صورتحال کو یکدم تبدیل کیا جاتا ہے اور معاملات کو نگران حکومت کے قیام تک لایا جاتا ہے تو ایسے میں آئی ایم ایف کے ساتھ نہ صرف معاہدہ متاثر ہوسکتا ہے بلکہ ملکی معیشت پر ایسے منفی اثرات بھی مرتب ہوسکتے ہیں جو ریاست کو دیوالیہ ہونے کی طرف دھکیل سکتے ہیں ۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کیا ان سیاسی حلقوں کو قبل ازوقت انتخابات کے تناظر میں پیدا ہونے والے سنگین مسائل کا ادراک نہیں ہے جبکہ اس معاملہ پر تھوڑی سے بھی سنجیدگی ایسا خوف پیدا کرتی ہے جسے سوچ کر بھی ڈر لگتا ہے ۔قبل ازوقت انتخابات کے حوالے سے دوسرا بڑا سوال یہ ہے کہ اگر فوری انتخابات کرادیے جاتے ہیں تو پھر ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انتخابات کے نتیجے میں ’’نئی حکومت‘‘کس طرح کی ہوگی اور اسے کس قدر مینڈینٹ حاصل ہوگا ۔لہذا اس وقت ریاست کا سب سے بڑا مسئلہ معاشی بد حالی ہے کیونکہ پاکستان اس وقت معاشی اعتبار سے انتہائی مخدوش صورتحال سے دوچار ہے جبکہ اسے مشکل معاشی صورتحال سے نکالنے لیے سیاسی عدم استحکام کا ہونا ضروری ہے ،تو پھر ایسے میں مسئلے کاحل فوری انتخابات کو قرار دینا سمجھ سے بالا تر ہے ۔قبل از وقت انتخابات کی بات اگر پنجاب کے ضمنی انتخابات کے نتائج کے تناظر میں کی جارہی ہے تو اس حوالے سے معاملہ واضح ہے کہ جن 20نشستوں پر ضمنی انتخابات ہوئے ہیں ان میں سے ایک بھی سیٹ مسلم لیگ (ن) کے پاس نہیں تھی کیونکہ 2018کے عام انتخابات میں ان صوبائی حلقوں سے 10نشستیں آزاد امیدواروں نے جیتتی تھیں جبکہ 10نشستوں پر پی ٹی آئی نے کامیابی حاصل کی تھی ،تاہم یہ کامیاب ہونے والے یہ دس امیدوار بھی بعد میں پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کرگئے تھے ۔اس طرح ان ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی کا مقابلہ اپنے ہی سابقہ امیدواروں سے تھا ،لیکن ان انتخابات کی اہمیت اس لیے غیر معمولی نوعیت اختیار کرگئی تھی کہ اس کے نتائج کے بنیاد پر پنجاب میںحکومت کی تشکیل کا معاملہ آکر لٹک گیا تھا ۔اسی طرح قبل از وقت انتخابات کے حوالے سے سب سے اہم سوال تو یہ بھی ہے کہ کیا سابق وزیر اعظم عمران خان صرف ’’قومی اسمبلی‘‘ کے انتخابات چاہتے ہیں یا پھر وہ ساتھ ہی صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات بھی چاہتے ہیں جس کے لیے یقینا انھیں اپنی خیبر پختون خوا اور ممکنہ پنجاب حکومت کی قربانی دینا پڑ سکتی ہے اور پنجاب میں ممکنہ وزیر اعلیٰ’’ چوہدری پرویز الہی ‘‘ کیا پی ٹی آئی کے چیئر مین عمران خان کے کہنے پر اسمبلی تحلیل کروادیں گے جبکہ وہ پنجاب میں وزارت اعلیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد عمران خان کو اس بات پر قائل کرسکتے ہیں کہ حکومت میں رہتے ہوئے مخالفین کو رگڑا دیا جاسکتا ہے اور سب سے بڑھ کر پنجاب میں پی ٹی آئی کی مخلوط حکومت ’’سودے بازی‘‘ کی سیاست کے طور پر بھی خاصی کشش رکھتی ہے۔