بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

پی ٹی آئی، پیٹرولیم گرانی کیخلاف احتجاج، خواتین سمیت درجنوں کارکن گرفتار

کراچی (نیوزڈیسک)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف کراچی میں شدید احتجاج کیا جبکہ پولیس نے احتجاج روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے اور اس دوران خواتین سمیت درجنوں کارکنوں کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا۔

پی ٹی آئی کراچی کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق مہنگائی کے خلاف پی ٹی آئی کا احتجاج پر پولیس نے شیلنگ کی اور گرفتاریاں عمل میں لائیں اور پولیس نے علاقے کو لوگو ایریا بنا دیا تاہم بڑھتی ہوئی مہنگائی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافے کے خلاف پی ٹی آئی کے زیر اہتمام کراچی پریس کلب کے باہر احتجاج کیا گیا۔

پی ٹی آئی کا احتجاج کو روکنے کے لیے سندھ پولیس نے سخت اقدامات کرتے ہوئے پریس کلب کے اطراف تمام راستے کنٹینرز لگا کر بند کر دیے، جس کے باعث شہر کے معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے اور کئی علاقوں میں کرفیو جیسی صورت حال دیکھنے میں آئی، پی ٹی آئی کے کارکنان مختلف علاقوں سے ریلیوں کی صورت میں کراچی پریس کلب کی جانب بڑھتے رہے جبکہ پولیس نے انہیں روکنے کے لیے شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا۔

بیان میں کہا گیا کہ احتجاج کے دوران پی ٹی آئی کی خواتین کارکنوں سمیت دیگر کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا جبکہ 5 خواتین سمیت 30 سے زائد رہنماؤں اور کارکنان کو گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے، گرفتار ہونے والوں میں پی ٹی آئی سندھ کے رہنما دوا خان صابر، ویمن ونگ کراچی کی صدر فضا ذیشان اور دیگر شامل ہیں۔

ترجمان پی ٹی آئی نے بتایا کہ تمام تر رکاوٹوں، شیلنگ اور گرفتاریوں کے باوجود پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ، کراچی کے صدر راجا اظہر، جنرل سیکرٹری ارسلان خالد اور دیگر رہنماؤں کی قیادت میں کارکنان نے پریس کلب کے قریب پہنچے صدر کے علاقے میں احتجاجی ریلی نکالی اور مہنگائی کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے احتجاج کیا۔

مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ملک میں مہنگائی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے نے عوام کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا آٹا، چینی، گھی اور دیگر اشیائے ضروریہ عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں جبکہ حکومتی پالیسیوں کے باعث غربت میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔

حلیم عادل شیخ نے پاکستان پیپلزپارٹی(پی پی پی) کی حکومت کو فاشسٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کراچی میں کرفیو جیسا ماحول پیدا کر کے پرامن احتجاج کو طاقت کے ذریعے دبانے کی کوشش کی گئی، حتیٰ کہ پریس کلب آنے والے صحافیوں کو بھی داخلے سے روکا گیا، انہوں نے مطالبہ کیا کہ گرفتار کارکنان کو فوری رہا کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ 1947 سے 2022 تک پیٹرول کی قیمت تقریباً 150 روپے فی لیٹر رہی جبکہ موجودہ حکمرانوں نے تین برسوں میں اسے 400 سے اوپر فی لیٹر تک پہنچا دیا تاہم نااہل حکمرانوں کے دن گنے جا چکے ہیں، عوام کا ووٹ چرا کر اقتدار میں آنے والوں کو عوامی مسائل کی کوئی فکر نہیں ہے۔

صدر پی ٹی آئی سندھ نے کہا کہ ملک کی معیشت دن بہ دن گرتی جا رہی ہے، عوامی مسائل میں اضافہ نااہل حکمرانوں کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے، پوری قوم عمران خان کی طرف دیکھ رہی ہے، فوری طور پر عمران خان کو رہا کیا جائے اور عوام کا مینڈیٹ واپس کیا جائے۔

پی ٹی آئی کے ترجمان نے کہا کہ پرامن سیاسی سرگرمی ہر شہری کا آئینی حق ہے، مگر موجودہ حکومت سندھ نے ایک بار پھر جمہوری اقدار کو پامال کرتے ہوئے عوام کی آواز دبانے کی کوشش کی ہے، سیاسی اختلاف کو طاقت کے ذریعے دبانا کسی بھی صورت قابل قبول نہیں لہٰذا حکومت سندھ ہوش کے ناخن لے اور جمہوری روایات کا احترام کرے۔

پی ٹی آئی کراچی ڈویژن کے صدر راجا اظہر نے کراچی پریس کلب کے باہر پی ٹی آئی کی جانب سے مہنگائی کے خلاف ہونے والے احتجاج پر سندھ پولیس کے اقدامات کو فسطائیت قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی اور کہا کہ پولیس گردی اور کارکنوں پر تشدد کی شدید مذمت کرتے ہیں، خواتین کارکنوں پر مرد پولیس اہلکاروں کی جانب سے ہاتھ اٹھانا انتہائی شرم ناک عمل ہے۔

راجا اظہر نے کہا کہ چیف جسٹس سندھ اس پولیس گردی واقعے کا فوری نوٹس لیں، سندھ میں قانون کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں، خواتین کی بےحرمتی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، آئین اور قانون کی حفاظت عدالتوں کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ پولیس کے ذریعے سیاسی کارکنوں کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے، بلاول بھٹو ہوش کے ناخن لیں اور کارکنوں پرظلم بند کروائیں، جمہوریت کے نام پر ریاستی طاقت کا غلط استعمال بند کیا جائے، پرامن سیاسی کارکنوں پر تشدد ناقابل قبول ہے اور ہم ہر فورم پر اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں گے۔