اسلام آباد (نیوزڈیسک)پاکستان کی طرف سے امریکہ ایران جنگ بندی کیلئے کی جانے والی سفارتی کوششوں کو دنیا بھر میں بڑی توجہ اور مثبت انداز میں دیکھا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں اتوار کو اسلام آباد میں پاکستان مصر، سعودی عرب اور ترکیہ کے وزیر خارجہ کے مابین مشاورتی اجلاس منعقد ہوا جس میں پاکستان کی کوششوں کی حمایت کرتے ہوئے انہیں سراہا گیا۔ اس اجلاس کے بعد ڈپٹی پرائم منسٹر و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے جنگ بندی کیلئے فریقین کے مابین پاکستان میں مزاکرات کی باقاعدہ پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کی میزبانی کرنا پاکستان کیلئے اعزاز ہوگا اور اس سلسلے میں امریکہ اور ایران کی طرف سے پاکستان پر اعتماد باعث فخر ہے۔
یقیناً اس تنازعے کے حل کیلئے پاکستان کی سفارتی کوششوں نے اسے دنیا بھر توجہ کا مرکز بنا دیا ہے تاہم میرے نزدیک ٹرمپ اور نیتن یاہو کے سابقہ رویے اور ڈیزائن کو دیکھتے ہوئے ان کوششوں سے زیادہ توقعات باندھنا مناسب نہیں ہوگا، کیونکہ میری رائے یہ ہے کہ ان مذاکراتی کوششوں کو ٹرمپ غیر قانونی جنگ کو شروع کرنے کے باعث اپنے خلاف قائم ہونے والی منفی رائے عامہ کو diffuse کرنے کیلئے استعمال کریں گے اور دنیا کو یہ دکھانے کی کوشش کریں گے کہ وہ مزاکرات کے ذریعے اس تنازعے کو حل کرنا چاہتے ہیں لیکن ایران ایسا نہیں چاہتا،اور پھر وہ اسی بات کو وجہ بناتے ہوئے نئی حکمت عملی کے تحت دوبارہ حملے شروع کردیں گے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان اس صورت حال میں کہاں کھڑا ہوگا، سعودی عرب کے ساتھ جس سے اسکا دفاعی معاہدہ ہے یا ایران کے ساتھ جس پر جارحیت کی وہ مزمت کرتا چلا آرہا ہے یا پھر امریکہ کے ساتھ جس سے اسکا ہنی مون پیریڈ چل رہا ہے؟۔ یقینا پاکستان جو اب تک ایک کامیاب سفارت کاری کے ذریعے ان تمام فریقین سے دوستانہ تعلقات کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہے اور ایران سعودی عرب یو اے ای کویت ترکیہ اومان سب جنگ بندی چاہتے ہیں لیکن ایران کو سابقہ تلخ تجربات کی بنا پر امریکہ سے مزاکرات میں خیر کی کوئی توقع نہیں۔ وہ پاکستان سمیت دیگر برادر ممالک کی ان مفاہمتی کوششوں کو بادلِ نخواستہ موقع دے رہا ہے اور پاکستان بھی کسی بڑی سفارتی آزمائش سے بچنے کیلئے یہ کوشش کررہا ہے اور یہ کہ ان کوششوں میں کامیابی سے ’جس کے امکانات بظاہر بہت کم ہیں‘ پاکستان کا سفارتی قد بہت بڑھ جائے گا۔ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کا اس وقت اتنا سفارتی وزن ہے کہ وہ امریکہ سے ایران کے جائز مطالبات منوا سکے اور ایران کو امریکی مطالبات کے قریب لاسکے.
یہ تقریبا ایک ناممکن کام ہے اسلئے ان مفاہمتی کوششوں کی ناکامی کی صورت میں پاکستان کو سفارتی سطح پر بڑا چیلینج در پیش ہوگا، جس سے نمٹنا آسان نہیں ہوگا۔ اگر جنگ شدت اور طوالت اختیار کرتی ہے تو اس کو فیصلہ کرنا پڑ سکتا ہے کہ وہ سعودی عرب سے دفاعی معاہدے کی پاسداری کرے یا ایران سے تعلقات کو بہتر رکھے اور امریکہ کو بھی کس طرح راضی رکھے۔
امریکہ کے ایران پر حملے روکنے اور مزاکرات کو ویلکم کرنے کے اعلان کے باوجود اسرائیل ایران کے ایٹمی ری ایکٹرز سمیت دیگر تنصیبات پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے اورٹرمپ زمینی فوج اتارکر خارزگ جزیرے اور ایرانی تیل کے ذخیروں پر قبضہ کرنے اور مزید فضائی حملوں کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ ایران کی طرف سے بھی ان خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ امریکہ زمینی کارروائی کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ان حالات میں مزاکرات کو امریکہ کی طرف سے وقت حاصل کرنے کی کوشش بھی قرار دیا جا رہا ہے تاکہ وہ مناسب وقت پر نئی حکمت عملی کے تحت دوبارہ حملہ آور ہو سکے۔
مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ ایران پر اسرائیل اور امریکہ کی مسلط کردہ موجودہ جنگ ایک تیر سے دو شکار کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہے کیونکہ ایک طرف اس جنگ کے ذریعے عراق لیبیا اور شام کی طرح ایران کو فوجی معاشی اور سیاسی سطح پر کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تو دوسری طرف ایران اور پاکستان’ عرب ممالک اور دیگر خلیجی مسلم ممالک کے مابین اختلافات کو ہوا دے کر آپس میں لڑا نے تقسیم اور کمزور کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔تاہم یہ بات باعث اطمینان ہے کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے اکسانے کے باوجود تاحال تمام مسلم ممالک نے سمجھداری کا ثبوت دیتے ہوئے ایران کے خلاف فوجی محاذ نہیں کھولا۔ اس سلسلے میں پاکستان کی کوششیں بھی لائق تحسین ہیں۔ اس حوالے سے ترک انٹیلیجنس چیف ابراہیم قالن کا یہ بیان انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کی ایران کے خلاف جنگ کا ہدف ایران کا نیوکلیئر پروگرام نہیں بلکہ ترک عرب کرد فارس مسلمانوں کو آپس میں لڑانا ہے۔
یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ اس جنگ کو شروع کرنے کیلئے ایران کا ایٹمی پروگرام تو بس ایک بہانہ ہے دراصل مسلم دنیا کو آپس میں الجھا کر بیچ سے نکل جانا اور ایران مخالف ممالک کو اسلحہ فروخت کرنا ہے۔اس سے قبل بھی اس خطے میں عراق ایران، عراق کویت، یمن سعودی عرب کے مابین تصادم کروائے جاتے رہے ہیں۔ اس حکمت عملی میں ایران کے ساتھ پاکستان میں بھی فرقہ وارانہ اور عرب دنیا میں صدیوں پرانی عرب فارس چپقلش کو دوبارہ زندہ کرنا بھی شامل ہے جس میں دشمنوں کو فی الحال ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ پاکستان میں شیعہ کمیونٹی کے بعض گروہوں کی طرف سے اس سلسلے میں کراچی اور گلگت بلتستان میں شدید ری ایکشن دیکھنے کو ملا ہے جس میں کئی قیمتی جانوں کا ضیاع بھی ہوا اور اس کے بعد چیف آف آرمی سٹاف کی شیعہ کمیونٹی کے علماء کرام سے ملاقات بھی زیر بحث ہے۔
گزشتہ روز حکان فدان نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ پاکستانی بھائیوں کی مصروفیات کی وجہ سے ترکی ، سعودیہ اور مصر کے وزیر خارجہ بروز اتوار پاکستان جائیں گے جہاں حالیہ جنگی صورتحال سمیت مستقبل کے ایک نئے بلاک کے قیام کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔









