اسلام آباد: خلیجی خطے میں جنگ کے آغاز کے بعد مارچ 2026 میں تیل کی قیمتوں کو منجمد رکھنے کے باعث پرائس ڈیفرینشل کلیمز (PDC) بڑھ کر 125 ارب روپے تک پہنچ گئے۔
سرکاری ذرائع نے منگل کو دی نیوز کو بتایا کہ مارچ 2026 کے دوران قیمتوں کے تین ہفتوں کے فریز کے باعث پی ڈی سی کا حجم 125 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے جس کے بعد اس نظام میں شفافیت کی کمی گہرے تحقیقاتی جائزے کی متقاضی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے آڈیٹر جنرل (AG) اور فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (FIA) کو فوری طور پر صنعت کے ذخائر کا فارنزک آڈٹ شروع کرنا چاہیے، ٹیکس کا دائرہ وسیع نہیں ہوگا تو ایندھن کا ٹینک حکومت کا ’اےٹی ایم‘ بنا رہے گا ،شہری دنیا کا مہنگا ترین ’’نااہلی ٹیکس‘‘دیتے رہیں گے۔
ذرائع کے مطابق موجودہ پیٹرول بم کمزورگورننس کا نتیجہ ہے، ریاست کو چاہیے کہ وہ غیر فائلرز، رئیل اسٹیٹ اور ریٹیلرز پر اسی شدت سے ٹیکس لے جیسے وہ پیٹرول پمپ پر عام شہری سے لیتی ہے۔









