بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بیوی کے قتل کے بڑھتے واقعات پر سپریم کورٹ کے سخت ریمارکس

سپریم کورٹ آف پاکستان میں ایک اہم کیس کی سماعت کے دوران ججز نے معاشرے میں بڑھتے ہوئے تشدد اور قتل کے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
تین رکنی بینچ، جس کی سربراہی جسٹس ہاشم کاکڑ کر رہے تھے، میں جسٹس اشتیاق ابراہیم اور جسٹس صلاح الدین پنہور بھی شامل تھے۔ سماعت ایک ایسے کیس سے متعلق تھی جس میں بیٹے نے چار مرلہ زمین کے تنازع پر اپنے والد کو قتل کیا اور بعد ازاں صلح کی بنیاد پر رہائی کی درخواست دائر کی۔
سماعت کے دوران جسٹس ہاشم کاکڑ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک صوبے میں عدالت کی کاز لسٹ میں شامل 11 کیسز میں سے 10 کیس بیوی کے قتل سے متعلق تھے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ازدواجی مسائل ہوں تو علیحدگی اختیار کی جا سکتی ہے، مگر قتل جیسے سنگین جرم کا کوئی جواز نہیں۔
ملزم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ کیس فساد فی الارض کے زمرے میں نہیں آتا اور ممکن ہے کہ ملزم ذہنی دباؤ یا بیماری کا شکار ہو۔ اس پر جسٹس ہاشم کاکڑ نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر واقعی ذہنی مسئلہ ہوتا تو ملزم خود کو نقصان پہنچاتا، نہ کہ اپنے والد کو قتل کرتا۔
جسٹس کاکڑ نے مزید کہا کہ قتل کے بعد بریت کی خواہش اور مستقبل کے حوالے سے سوالات بھی اہم ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ موجودہ قانونی نظام میں ایک یا متعدد قتل کے مجرموں کو تقریباً یکساں مدت کے بعد رہائی مل جانا ایک سنگین مسئلہ ہے، جو بظاہر “قتل کا لائسنس” دینے کے مترادف ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر قانون کی یہی صورتحال رہی تو معاشرہ جنگل کے قانون کی طرف چلا جائے گا، جہاں ہر شخص اپنی مرضی سے انصاف کرنے لگے گا۔ انہوں نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ دنیا میں جنگ یا دشمنی کے باوجود عورتوں اور بچوں کو نشانہ نہیں بنایا جاتا، مگر یہاں ایسے واقعات عام ہوتے جا رہے ہیں۔
عدالت نے صلح کے نظام پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ اکثر بااثر افراد کمزور فریق کو دباؤ میں لا کر صلح نامے پر مجبور کرتے ہیں، جس سے انصاف کا تقاضا پورا نہیں ہو پاتا۔
سماعت کے دوران عدالت نے خواجہ حارث اور شاہ خاور کو عدالتی معاونین مقرر کرتے ہوئے تحریری سفارشات طلب کر لیں۔ کیس کی مزید سماعت 20 اپریل تک ملتوی کر دی گئی۔