خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان کی حالیہ سفارتی کامیابی نہ صرف امریکہ میں سراہا جا رہا ہے بلکہ بھارت میں بھی اس کا اعتراف کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کے خلاف پاکستان کی جیت کا ذکر 60 سے 70 بار کیا۔
قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ دنیا بھر میں وزیرِاعظم اور فیلڈ مارشل کی قیادت کی تعریف ہو رہی ہے اور وہ اپنی قیادت کی بصیرت کو دل کی گہرائیوں سے داد دیتے ہیں۔
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ پاکستان کی کامیابی کا اثر یہاں تک پہنچا ہے کہ وہ لوگ بھی تعریف کر رہے ہیں جنہیں شاید نقشے پر پاکستان کا پتہ بھی نہیں۔ جہاں جہاں پاکستانی موجود ہیں، وہ فخر کے ساتھ اپنی شناخت بتا رہے ہیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ خلیج فارس کے دونوں طرف ہمارے بھائی ہیں اور پاکستان نے ان کے درمیان صلح قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ دنیا بھر میں پاکستان کا وقار بلند ہوا، یورپی، مسلم اور دیگر دوست ممالک پاکستان کی کامیابی کی تعریف کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں اگر ایسی ہم آہنگی ہوتی تو کئی بڑے حادثات سے بچا جا سکتا تھا، اور آج ہماری قیادت کی دور اندیشی قابل تحسین ہے۔
انہوں نے افغان طالبان کے خلاف پاکستان کی جنگ کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ “ہم نے جن کو دہائیوں تک پالا، آج ان کے ہاتھ ہماری گریبان پر ہیں، انشاء اللہ ہمارے گریبان تک پہنچنے والے یہ ہاتھ کٹ جائیں گے۔” انہوں نے مزید کہا کہ پچھلے دو سال میں پاکستان نے عالمی سطح پر اپنا وقار بڑھایا اور پاکستانی عوام فخر سے اپنی شناخت ظاہر کر رہے ہیں۔
وزیر دفاع نے اختتاماً کہا: “اللہ کرے ہم کامیاب ہوں اور امن قائم ہو جائے۔ مسلم ممالک کو اس امن کی حفاظت کرنی ہوگی۔ قومی تاریخ میں شاید ہی کوئی ایسا لمحہ آئے جب پاکستان کا قد اتنا بلند ہوا ہو، عزت اور احترام میں اضافہ ہوا ہو۔ یہ ایک بڑی کامیابی ہے اور سب سے بڑا ورثہ ہے جو ہم آنے والی نسل کے لیے چھوڑ جائیں گے۔”
وزیر دفاع خواجہ آصف: پاکستان کی سفارتی کامیابی کا عالمی سطح پر اعتراف ہو رہا ہے








