بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

عالمی رہنماوں نے ایران-امریکا جنگ بندی میں پاکستان کے ثالثی کردار کو سراہا

دنیا بھر کے ممالک نے ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ جنگ بندی میں پاکستان کے مؤثر ثالثی کردار کو دل کی گہرائیوں سے سراہا ہے۔ عالمی رہنماوں اور سفارتکاروں نے پاکستان کی مخلصانہ اور سنجیدہ سفارتی کوششوں کو نہایت قابلِ ستائش قرار دیا۔
وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی انتھک کوششوں نے پاکستان کو خطے میں امن کے ضامن کے طور پر منوایا، جبکہ تباہ کن جنگی حالات میں پرامن حل نکالنا ملک کی بہترین سفارتکاری اور مؤثر ملٹری ڈپلومیسی کا ثبوت ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے بات چیت کے بعد ایران کے ساتھ جنگ روک دی گئی۔
جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی اور پاکستان کے ثالثی کردار کا خیرمقدم کیا، جبکہ ترکیہ کی وزارت خارجہ نے اسلام آباد میں مذاکرات کی کامیاب تکمیل کے لیے تعاون جاری رکھنے کا اعلان کیا۔
چین کے سفیر جیانگ زائیدونگ اور چین کی وزارت خارجہ نے پاکستان کے تعمیری کردار اور فعال ثالثی کی کوششوں کو خطے میں امن و سلامتی کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا۔
قطر اور سعودی عرب نے بھی وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ثالثی اور مؤثر کوششوں کو بھرپور انداز میں سراہا۔ ایرانی سفیر رضا امیری نے کہا کہ پاکستان کی ثالثی نے ایک حساس اور اہم مرحلے کو آگے بڑھایا ہے۔
برطانیہ کے سفیر جین میریٹ اور نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ ونسٹن پیٹرز نے بھی پاکستان کے نتیجہ خیز کردار اور کامیاب ڈپلومیسی پر شکریہ ادا کیا۔ سابق اطالوی وزیراعظم پاؤلو جینٹیلون نے کہا کہ امریکا-ایران جنگ بندی میں پاکستان نوبل امن انعام کا حق دار ہے۔ یوکرین کے وزیر خارجہ آندری سیبیہا نے بھی پاکستان کے کردار کو قابل ستائش قرار دیا۔
ماہرین کے مطابق پاکستان بطور نیٹ سیکیورٹی پروائیڈر اور نیٹ ریجنل اسٹیبلائزر عالمی افق پر مضبوطی اور وقار کے ساتھ ابھر رہا ہے۔ پاکستان نے مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال میں پیچیدگیوں کے باوجود ایک مثبت اور اہم کردار ادا کیا اور عالمی طاقتوں امریکا اور ایران کو اپنے اثر و رسوخ اور متوازن تعلقات کے باعث مذاکرات پر مجبور کیا۔
یہ تمام اعترافات عالمی برادری میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے وقار اور خطے میں امن قائم کرنے کی کوششوں کی روشنی میں ملک کے لیے فخر کا باعث ہیں۔