صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی حالیہ سوشل میڈیا پوسٹ میں ایران کے ساتھ بات چیت اور تعاون جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ مل کر کام کرے گا کیونکہ ایران میں مفید رجیم چینج ہو چکی ہے۔
امریکی صدر نے یقین دلایا کہ یورینیم کی کوئی افزودگی نہیں ہوگی اور امریکا ایران کے ساتھ مل کر زمین کی گہرائی میں دفن ایٹمی مواد کو نکالنے اور محفوظ کرنے کا عمل کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مواد اب بھی انتہائی سخت سیٹلائٹ نگرانی (اسپیس فورس) میں ہے اور حملے کے دن سے اب تک کسی چیز کو نہیں چھوا گیا۔
صدر ٹرمپ نے مزید بتایا کہ امریکا اور ایران ٹیرف اور پابندیوں میں نرمی پر بات چیت کر رہے ہیں اور آئندہ بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ ان کے مطابق 15 نکات میں سے کئی پر دونوں فریق پہلے ہی متفق ہو چکے ہیں۔
واضح رہے کہ اس جنگ کا آغاز 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے سے ہوا تھا جس میں ایران کے اعلیٰ حکام سمیت اہم فوجی اور قومی سلامتی کے مشیر شہید ہوئے۔ اس کے جواب میں ایران نے خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کو نشانہ بنایا اور آبنائے ہرمز کو بند کردیا، جس سے عالمی سطح پر پیٹرول کی قلت اور قیمتوں میں اضافہ ہوا۔
اس کے بعد گزشتہ روز صدر ٹرمپ کی ڈیڈ لائن ختم ہونے پر امریکا اور ایران دو ہفتوں کے لیے جنگ بندی پر متفق ہوگئے، جس کے تحت امریکا حملے روک دے گا اور ایران آبنائے ہرمز کھول دے گا۔
صدر ٹرمپ: ایران پر پابندیاں نرم اور ٹیرف میں کمی پر بات چیت جاری








