کراچی(نیوز ڈیسک)ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے تحت نویں اور دسویں جماعت کے سالانہ امتحانات کا آغاز ہوگیا ہے، جس میں سائنس و جنرل گروپ کے ریگولر اور پرائیویٹ امیدوار شریک ہیں۔
شہر بھر کے مختلف 18 ٹاؤنز میں قائم 521 امتحانی مراکز میں تقریباً 3 لاکھ 85 ہزار 529 سے زائد طلباء و طالبات صبح اور دوپہر کی شفٹ میں امتحانات دے رہے ہیں۔
امتحانات کے سلسلے میں میٹرک بورڈ آفس سے سامان کی ترسیل علی الصبح شروع کردی گئی، جس میں امتحانات کے لیے ضروری اشیا امتحانی مراکز تک پہنچائی گئیں۔ امتحانی پرچے بورڈ کے افسران حب سینٹرز پر پہنچائیں گے، جہاں سے سینٹر کنٹرول افسران انہیں متعلقہ مراکز تک منتقل کریں گے۔
یہ افسران پرچے کے دوران مراکز میں موجود رہیں گے اور امتحان کے اختتام پر طلبہ کی جانب سے پُر کیے گئے جوابی پرچوں کو سربمہر کر کے اپنی نگرانی میں بورڈ آفس واپس پہنچائیں گے۔ امتحانی پرچوں کی ترسیل کے لیے 18 ٹاؤنز میں 25 حب قائم کیے گئے ہیں جبکہ بورڈ کے افسران اس عمل پر مامور ہیں۔
چیئرمین میٹرک بورڈ نے امتحانی مراکز کے قریب فوٹو کاپی مشینیں دورانِ امتحان بند رکھنے کا حکم دیا ہے جبکہ طلبہ کو متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ امتحانات کے دوران موبائل فون ہرگز اپنے ہمراہ نہ لائیں، بصورت دیگر موبائل فون ضبط کر لیا جائے گا۔
اس کے علاوہ طلبہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی قسم کا نقل کا مواد ساتھ نہ لائیں۔ امتحانی مراکز پر بیرونی مداخلت پر مکمل پابندی عائد ہے اور اطراف میں کام کرنے والی فوٹو اسٹیٹ مشینیں بھی امتحان کے دوران بند رکھی گئی ہیں۔
ترجمان تعلیمی بورڈ کے مطابق امتحانی مراکز کے اطراف دفعہ 144 نافذ کرنے کے لیے متعلقہ اداروں کو خطوط ارسال کیے گئے ہیں جبکہ نقل کی روک تھام کے لیے خصوصی ٹیمیں بھی متحرک ہیں۔
ان ٹیموں کی نگرانی میں بورڈ کا عملہ دوران امتحان مراکز پر موجود رہ کر صورتحال کا جائزہ لے گا اور روزانہ کی بنیاد پر اپنی رپورٹ مرتب کر کے بورڈ آفس میں قائم رپورٹنگ سیل میں جمع کرائے گا۔ امتحانات کی نگرانی کے لیے بورڈ آفس میں باقاعدہ رپورٹنگ سیل قائم کیا گیا ہے جبکہ ویجیلنس ٹیمیں روزانہ کی بنیاد پر امتحانی مراکز کا دورہ کریں گی۔
شیڈول کے مطابق آج صبح کی شفٹ میں دسویں جماعت کا کمپیوٹر اسٹڈیز جبکہ دوپہر کی شفٹ میں جنرل سائنس کا پرچہ لیا جا رہا ہے۔
غلام حسین سہو کے مطابق پرچے کا دورانیہ 3 گھنٹے مقرر کیا گیا ہے، صبح کا پرچہ ساڑھے 9 بجے سے ساڑھے 12 بجے تک جبکہ دوپہر کی شفٹ میں ڈھائی بجے سے ساڑھے 5 بجے تک جاری رہے گا۔
بورڈ نے کے الیکٹرک انتظامیہ کو امتحانات کے دوران لوڈشیڈنگ نہ کرنے کے لیے تحریری درخواست بھی دی ہے۔
علاوہ ازیں بورڈ آفس سے آن لائن ایڈمٹ کارڈ اور امتحانی مراکز کی فہرست جاری کر دی گئی ہے۔ ترجمان کے مطابق کچھ اسکولوں نے ناگزیر وجوہات کی بنا پر امتحانی مراکز کی تبدیلی کے لیے درخواستیں جمع کرائی تھیں جن میں سے کئی مراکز تبدیل کیے جا چکے ہیں، لہٰذا اسکولوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ نئی فہرست آفیشل ویب سائٹ سے حاصل کریں۔
کنٹرولر میٹرک بورڈ نے ہدایت کی ہے کہ ایسے طلبہ و طالبات کو سہولت فراہم کی جائے جو اپنے امتحانی مرکز پر وقت سے پہلے نہ پہنچ سکیں۔ مزید برآں ناظم امتحانات کی جانب سے سینٹر سپرنٹنڈنٹس کو ہدایت دی گئی ہے کہ کسی بھی وجہ سے پہلے روز اپنے مقررہ مرکز نہ پہنچنے والے طلبہ قریبی امتحانی مرکز میں اپنا پرچہ دے سکتے ہیں۔
ترجمان کے مطابق نقل کی روک تھام کے لیے امتحانی پرچوں پر متعلقہ سینٹر کا واٹر مارک بھی شامل کیا گیا ہے جبکہ امتحانی مراکز کے اطراف دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے اور امتحانات کی نگرانی کے لیے بورڈ آفس میں قائم رپورٹنگ سیل فعال طور پر کام کر رہا ہے۔









